آل سعود اور حج اجارہ داری

0
69

Shafaqna IRایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کو حج کے انتظامات کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔

9042.01 Hajj2015 07Sep16پیر کو ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے مسلم امہ سے کہا کہ وہ اسلام کے مقدس ترین مقامات کے انتظامات پر سوال اٹھائیں۔انھوں نے کہا کہ سعودی حکمرانوں کی جانب سے خدا کے مہمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی وجہ سے دنیائے اسلام کو حج کے معاملات اور مقاماتِ مقدسہ کے انتظام کے معاملے پر بنیادی طور پر نظرثانی کرنی چاہیے ۔

گزشتہ برس دوران حج کرین کے گرنے اور پھر منی میں بھگدڑ سے قریبا گیارہ سو افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔2015 میں پیش آنے والے سانحے کے بعد سعودی حکومت پر کافی تنقید کی گئی تھی۔سعودی حکام  نے اس موققع پر غلط اعدادو شمار پیش کرکے کہا تھا کہ اس واقعے میں 769 حجاج ہلاک ہوئے تھے جو 1990 کے بعد سے حج کے موقعے پر ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔BUA_001

تاہم دیگر ممالک کی جانب سے وصول شدہ لاشوں کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ اس سانحے میں دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں سے چار سو کے قریب ایرانی تھے۔ اس واقع کا اہم پہلو یہ تھا کہ ’’بجائے طبی امداد فراہم کرنے اور کم از کم اُن کی پیاس بجھانے کے، سنگدل اور قاتل سعودیوں نے ہلاک و زخمی حاجیوں کو ٹرکوں میں بھرا۔ اور یوں، اُنھوں نے اُن کو قتل کیا۔

اس کے علاوہ  رواں برس ایران اور سعودی عرب کے درمیان حج کے دوران ایرانی شہریوں کے انتظامات کے حوالے سے معاہدے پر مذاکرات کی ناکامی کی وجہ سے رواں برس ایرانی شہری حج کا فریضہ سرانجام نہیں دے سکیں گے۔ حج جو ایک دینی فریضہ ہے جس سے کافروں اور مشرکوں کے علاوہ کسی کو محروم نہیں کیا جا سکتا،BUA_014

حرمین شریفین تمام مسلمانوں کے لیے امن کے مقامات ہیں ،حج و عمرہ کی ادائیگی میں دنیا بھر کے مسلمان یکسان و برابر ہیں اور بجائے اس کے کہ حرمین شریفین پر قابض سعودی حکام حج پر جانے والے تمام مسلمانوں کے لیے ممکنہ سہولیات فراہم کریں ،افسوس کے ساتھ بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام میں اپنے ہاتھ رنگین کر رہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی شرمناک فعل ہے کہ فریضہ حج کی ادائگی میں حاجیوں کے لیے شرائط کا تعین کر رہی ہے جیسا کہ سعودیہ نے ایران کے لیے گیارہ شرائط رکھے اگر وہ انہیں قبول نہ کریں تو ایرانی حاجیوں کو حج پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایرانی مذاکراتکاروں کی جانب سے سعودیہ کے  شرائط قبول نہ کئے جانے کے بعد اس سال ایرانی باشندوں کے لیے حج کی منسوخی کا اعلان کر دیا گیا۔

ان تمام واقعات پر اپنی نا اہلی اور ناکامی کا اعتراف کرنے کی بجائے سعودیہ نے اسے ہمیشہ سیاسی رنگ دینے کی کوشش ہے اور ببانگ دہل کہا ہے کہ حج کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوششیں سختی سے کچل دی جائیں گی’ اور حج کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ہر قسم کے مظاہروں کو روک دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کی حکومت کو یہ خدشات کیوں ہیں کہ ”حج” کی مقدس عبادت اور ایام کو کوئی اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے بھی استعمال کر سکتا ہے؟BUA_004

سعودی حکومت یہ کیوں کر سوچ سکتی ہے کہ اس مقدس عبادت کو کوئی سیاسی مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آل سعود حج کو ایک مقدس مذہبی عبادت سمجھنے کی بجائے اس کو معاشی مفاد کا ایک ذریعہ گردانتی ہے۔ سعودی حکومت کے دوران نظم وضبط کو قائم رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ آل سعود اب اس اہم ترین اور مقدس مذہبی عبادت سے اپنی اجارہ داری ختم کریں اور اس کے انتظامات تمام مسلم ممالک کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کر کے اس کے سپرد کیے جائیں