Home / دھشت گردی / امریکہ کا سعودی عرب کو بعض ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا فیصلہ

امریکہ کا سعودی عرب کو بعض ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا فیصلہ

voa_2ایک امریکی اہل کار نے بتایا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو چند جدید ہتھیاروں کی مجوزہ فروخت روک دے گا، جس کی وجہ یمنی خانہ جنگی میں سعودی فوجی سرگرمیوں پر تشویش بتائی جاتی ہے، جس کے باعث ہزاروں شہریوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔

12066-01-yemen-14dec16اہل کار نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے سعودی عرب کو فضا سے ہدف بنانے والے جدید ترین اسلحے کی فروخت منسوخ کر دی ہے، جو امریکہ کا ایک کلیدی اتحادی ہے۔

اہل کار نے کہا ہے کہ ”یہ اُس تشویش کا براہ راست اظہار ہے جو ہمیں سعودی عرب سے متعلق ہے، جس کی وجہ سے شہری ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں”۔

جدید ترین ہتھیاروں کی فروخت کی منسوخی کے علاوہ، سعودی فضائی فوج کے اہل کاروں کی نشانہ بازی کی مہارت میں بہتری لانے کے لیے ضروری تربیت کا بندوبست کیا جائے گا، جو معاملہ اوباما انتظامیہ کی مستقل پریشانی کا باعث بنا رہا ہے۔

فضائی کارروائی جنگی جرائم؟

12066-02-yemen-14dec16اس فیصلے کے نتیجے میں امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں مزید بگاڑ آسکتا ہے، ایسے میں جب منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ امریکی حکومت کے انتظامی شعبے کا کنٹرول سنبھالنے والے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے اگست میں کہا تھا کہ مارچ 2015ء سے اب تک یمن میں سعودی قیادت والا اتحاد 3800 شہریوں میں سے تقریباً 60 فی صد کی ہلاکت کا ذمہ دار رہا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے چند دیگر اداروں نے امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کی جنگی حرکات کی حمایت جاری رکھنے، اُسے ہتھیاروں کی فروخت اور سعودی قیادت والے اتحاد کے لڑاکا جیٹ طیاروں کو ایندھن کی فراہمی پر امریکہ پر نکتہ چینی کی ہے۔ حقوق انسانی کے چند گروپوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سعودی قیادت والا اتحاد شفا خانوں، کارخانوں، مارکیٹوں اور اسکولوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جو اقدام جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

About admin

Check Also

کل بھوشن کی بیوی 2ماہ سے لا پتہ

پاکستان میں سزائے موت کے منتظر بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘کے ایجنٹ کلبھوشن کی بیوی جسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!