اوہائیو یونیورسٹی کا حملہ آور 7سال پاکستان میں رہا؟

0
12


dawn-newsکولمبس: اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی حملے میں 11 افراد کو اپنی گاڑی اور چھریوں کے وار کرکے زخمی کرنے والا صومالی طالب علم عبدالرزاق علی ارتن کے حوالے سے یہ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ 7 سال پاکستان میں مقیم رہا۔

11113-02-ohio-30nov16امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق تفتیش کاروں سامنے یہ بات آئی کہ عبدالرزاق علی ارتن 2014 میں اپنی والدہ کے ساتھ پناہ گزین کی صورت امریکا پہنچا اور اس سے پہلے 7 سال تک وہ پاکستان میں رہتا تھا۔

حملہ آور نوجوان جسے مبینہ طور پر داعش کا حامی بھی قرار دیا جارہا ہے، اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے لاجسٹکس مینیجمنٹ ڈپارٹمنٹ میں تیسرے سال کا طالب علم تھا۔

مزید پڑھیں: اوہائیو یونیورسٹی: حملہ آور ‘ناراض مسلمان’ طالب علم تھا

یاد رہے کہ گذشتہ روز اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی میں ہونے والے اچانک حملے کا دورانیہ چند منٹ پر محدود تھا، نوجوان اپنی گاڑی لے کر ہجوم کی جانب بڑھا اور چند ہی لمحوں میں پولیس کی گولی کا نشانہ بن گیا۔

داعش کی خبر رساں ادارہ قرار دی جانے والی ایجنسی اعماق کے مطابق عبدالرزاق کو داعش کا جنگجو قرار دیا گیا ہے۔

اعماق کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ عبدالرزاق نے یہ حملہ بین الاقوامی اتحادی ممالک کے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں کیا۔

11113-01-ohio-30nov16واضح رہے کہ امریکی ٹیلی ویژن نے گذشتہ روز عبدالرزاق کی اس فیس بک پوسٹ کو بھی شیئر کیا تھا جس میں اس نے امریکا مخالف پیغام دیا تھا۔

عبدالرزاق کی پوسٹ میں درج تھا کہ، ’میں یہ سب مزید برداشت نہیں کرسکتا، امریکا! دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی بند کرو، بالخصوص مسلم امہ کے معاملات میں، ہم کمزور نہیں ہیں، یاد رکھو کہ ہم کمزور نہیں ہیں‘۔

پوسٹ میں مزید درج تھا کہ ’اگر تم چاہتے ہو کہ ہم مسلمان حملے کرنا بند کریں تو امن قائم کرو، ہم تمہیں اس وقت تک نہیں سونے دیں گے جب تک تم مسلمانوں کو چین سے نہیں رہنے دو گے‘۔

امریکی ریاست اوہائیو کو امریکا میں موجود صومالی باشندوں کا دوسرا بڑا رہائشی علاقہ خیال کیا جاتا ہے، صومالی کمیونٹی ایوسی ایسشن کے مطابق، 38 ہزار کے قریب صومالی صرف کولمبیا میں رہائش پذیر ہیں۔

امریکا میں سب سے زیادہ صومالی مینیوسوٹا میں آباد ہیں، ماہ ستمبر میں مینیسوٹا میں اسی نوعیت کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جب ایک شاپنگ مال میں چھریوں کے وار کرکے 10 افراد کو زخمی کردیا گیا تھا، اس واقعے کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی تھی۔