Pakistan's newly appointed army chief General Sharif attends the change of command ceremony at army headquarters in Rawalpindi

اسلام آباد میں متعیّن ایرانی سفیر مہدی ہُنردوست نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہمیں اس ایشو پر تشویش لاحق ہے اور وہ یہ کہ اس سے اسلامی ممالک کے اتحاد پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں‘‘۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا نے ہُنردوست کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان نے جنرل راحیل شریف کو فوجی اتحاد کی قیادت سنبھالنے کے لیے عدم اعتراض کا سرٹیفیکیٹ ( این او سی) جاری کرنے سے قبل ایرانی حکام سے رابطہ کیا تھا لیکن اس رابطے میں اس بات کا اشارہ نہیں دیا گیا تھا کہ ایران اس فیصلے سے مطمئن بھی ہے یا اس نے اس تقرر کو قبول کر لیا ہے‘‘۔

سفیر کا کہنا تھا کہ ایران نے پاکستانی حکومت کو اس معاملے میں اپنی تشویش سے آگاہ کردیا ہے اور یہ بھی بتا دیاہے کہ ایران اس طرح کے فوجی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ایران کو ایسے کسی اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔

ایرانی سفیر نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ تمام اہم اسلامی ممالک کو اس طرح کا متنازعہ فوجی اتحاد تشکیل دینے کے بجائے اپنے تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے کے لیے ’’امن کا اتحاد‘‘ تشکیل دینا چاہیے۔

واضح رہےکہ حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کو انتالیس مسلم ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد کی قیادت سنبھالنے کے لیے منظوری دے دی ہے اور توقع ہے کہ وہ اسی ماہ اس فوجی اتحاد کی کمان سنبھال لیں گے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے گذشتہ اتوار کو نجی ٹی وی چینل جیو کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ حکومت نے سعودی حکومت کی جانب سے اس ضمن میں تحریری درخواست موصول ہونے کے بعد اصولی طور پر انھیں عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ(این او سی) جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔

پاکستان کی سعودی عرب کی قیادت میں اس فوجی اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے پہلے ابہام پایا جاتا تھا لیکن گذشتہ جمعرات کو دفترخارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے اپنی معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران اس ابہام کو بھی دور کردیا تھا اور انھوں نے بتایا تھا کہ پاکستان اس اتحاد میں شامل ہوگیا ہے اور اس نے یہ فیصلہ اس اتحاد کے شرائط وضوابط پر اتفاق رائے ہونے کے بعد کیا ہے۔

یاد رہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے چونتیس اسلامی ممالک پر مشتمل اتحاد 16 دسمبر 2015ء کو معرضِ وجود میں آیا تھا اور بعد میں پانچ اور ممالک اس میں شامل ہوگئے تھے۔تب عرب لیگ نے معاہدہ شمالی اوقیانوس کے طرز پر”عرب نیٹو” کے نام سے ایک سریع الحرکت فوج کی تشکیل کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ سعودی عرب نے گذشتہ سال پاکستان کی مشاورت سے جنرل راحیل شریف کے دہشت گردی مخالف اس اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ کے طور پر تقرر کا اعلان کیا تھا۔

ایران ،پاکستان تعلقات

ایران مشرق وسطیٰ کے خطے میں سعودی عرب کے ساتھ روایتی آویزش کی وجہ سے اس فوجی اتحاد کی مخالفت کررہا ہے اور وہ اس کو اپنے خلاف گردان رہا ہے جبکہ اس کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیائیں عراق ،شام اور یمن میں لڑرہی ہیں اور وہ ان کی ہر طرح سے پشتیبانی کررہا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات استوار ہیں جبکہ اس کے ایران کے ساتھ ماضی میں اچھے ہمسائیگی تعلقات رہے ہیں۔

لیکن ایران میں 1979ء میں امام خمینی کے برپا کردہ انقلاب کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں ماضی جیسی گرم جوشی برقرار نہیں رہی تھی اور اس کا بڑا سبب یہ تھا کہ ایرانی حکام نے اپنے اس انقلاب کو پاکستان سمیت دوسرے ہمسایہ ممالک کو برآمد کرنے کی کوشش کی تھی اور وہ پاکستان کے اہل تشیع کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے تھے اور اس وجہ سے ملک میں شیعہ سنی فرقہ واریت کو مہمیز ملی تھی اور ان کی بنیاد پر دہشت گردی کے واقعات کا ایک لامتناہی سلسلہ بھی شروع ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے ایران نواز بعض میڈیا ادارے اور سعودی عرب کے نظریاتی مخالف صحافی حضرات بھی بڑھ چڑھ کر جنرل راحیل شریف کے تقرر کی مخالفت کررہے ہیں مگر ایران کے پاکستان کے دیرینہ حریف بھارت سے بڑھتے ہوئے تعلقات اور پاکستان سے منھ موڑنے کے حوالے سے کچھ کہنے سے وہ ہمیشہ گریزاں ر ہتے ہیں اور اس حقیقت کو بھی فراموش کردیتے ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات میں ہر ملک اپنے قومی ،سیاسی ،سفارتی اور اقتصادی مفادات کے پیش نظر فیصلے کرتا ہے۔

بھارت اور ایران کے درمیان تعلقات کی گہرائی کا اندازہ اس واقعے سے بھی کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں گرفتار ایک بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کئی سال تک ایران میں مقیم رہا تھا اور وہاں سے پاکستان میں اپنے جاسوسی کے نیٹ ورک کو چلاتا رہا تھا۔پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو کلبھوشن یادو کے ایران میں قیام کے حوالے سے بھی تشویش لاحق رہی ہے اور انھوں نے ایرانی سرزمین کے پاکستان کے مفادات کے خلاف استعمال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔