Home / دلچسپ و عجیب / ایران کے اہل سنت زائرین حسینی کی مہمان نوازی میں مصروف

ایران کے اہل سنت زائرین حسینی کی مہمان نوازی میں مصروف

baydariآستان قدس رضوی کی کمیٹی نے بھی صوبے کی سطح پر صوبے کے لوگوں اور پاکستانی طلاب کی مدد سے مہمانوں کی ہر طرح کی مدد کا بندو بست کیا ہے جن میں زائرین کی کھانے پینے کی ضروریات ، اور رہنے کا خرچہ اور کلچرل ضرورتیں شامل ہیں ۔

عراقی زائرین کی پذیرائی صرف عراق تک محدود نہیں  بلکہ جس ملک سے بھی زائرین جاتے رہے ہیں اسمیں ان کی پذیرائی ہوتی رہی ہے ۔ لیکن اسی دوران ایرانی خاص کر پاکستانی زائرین کے میزبان ہوتے ہیں جو زمینی راستے سے سینکڑوں کیلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے ایران کی سرزمین سے عراق میں داخل ہوتے ہیں ۔%d9%86%d9%88%d8%b4%da%a9%db%8c

پاکستان کے مظلوم زائرین اوبڑ کھابڑ راستوں سے ۷۰۰ کیلومیٹر  کا سفر طے کرتے ہیں اور راستے میں کبھی وہ وہابی جو کمین لگا کر بیٹھتے ہیں ان کے حملوں کے نتیجے میں شہادت کے درجے پر فائز ہو جاتے ہیں ۔

بعض سرکاری حکام کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال ۲۱ ہزار پاکستانی زائرین سیستان و بلوچستان میں داخل ہوئے جب کہ اس سال اب تک ۲۰ ہزار زائرین ایران  میں داخل ہوچکے ہیں اور اندازہ ہے کہ ۵۰ ہزار زائرین ایران میں داخل ہوں گے ۔%d8%b3%db%8c%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86

لیکن دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ اس سال لوگوں کے مختلف اصناف کی ۶۰ انجمنیں میر جاوہ ،زاہدان اور سرحد پر پاکستانی زائرین کی خدمت کے لیے موجود ہیں ۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق صوبہ سیستان اور بلوچستان کے سنی عوام نے چہلم کی پیادہ روی کے دوران زائرین حسینی کی پذیرائی کے لیے ۲ ٹن کلوچے تیار کیے ہیں جو نجف سے کربلا کے ۹۰ کیلو میٹر کے فاصلے میں ان کے درمیان تقسیم کیے جائیں گے ۔

قابل ذکر ہے کہ ان دنوں میں اس شہر کی میٹھائی کی دوکانیں تقریبا بند ہو چکی ہیں اور اس کے بدلے وہ روزانہ ۱۰۰ سے ۱۵۰ کیلو گرام کلوچہ بناتے ہیں اور چہلم کے دنوں میں یہ مقدار ۳۰۰- ۴۰۰ کیلو گرام روزانہ ہو جائے گی ۔

 اہل سنت حسینی زائرین کے میزبان ،

حجۃ الاسلام اسماعیل تدینی نے جو سیستان و بلوچستان کے اوقاف اور فلاحی امور کے مدیر اعلی ہیں عصر ہامون کے اجتماعی خبر نگار کے ساتھ گفتگو کے دوران بتایا : اب تک ۵ موکب کہ جن میں ۳ موکب شیعوں کے اور ۲ موکب اہل سنت کی طرف سے زاہدان اور میر جاوہ میں حسینی زائرین کی پذیرائی کے لیے لگ چکے ہیں ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ آستان قدس رضوی روزانہ ایک ہزار کھانے موکب والوں کو دیتا ہے اپنی بات جاری رکھی : ہم امید کرتے ہیں کہ ثقافتی تنظیمیں عوام اور اہل خیر افراد کی طرف سےثقافتی پیکٹ لے کر زیادہ سے زیادہ تعداد میں لے کر یہاں آئیں گے ۔

اربعین کی انتظامیہ پورے طور پر عوامی اور خود بخود وجود میں آئی ہے ۔

صوبہء سیستان و بلوچستان کی عوامی تنظیم کے دبیر نے تسنیم کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں اس تنظیم کے وجود میں آنے کے سلسلے میں بتایا  ہے کہ : یہ تنظیم اپنے آپ وجود میں آئی ہے جس کا مقصد ان شیعوں کی مدد کرنا ہے کہ جو پاکستان کی سرحد سے عراق میں چہلم کی پیادہ روی میں شرکت کرنے کے لیے سیستان و بلوچستان آتے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا : سیستان و بلوچستان کی اس تنظیم کی ۷ کمیٹیاں ہیں ، جن کے نام یہ ہیں ؛ ثقافتی کمیٹی ، تبلیغات اور روابط عمومی کی کمیٹی ، ، پشتیبانی کی کمیٹی ، شناسائی کی کمیٹی ، اعدادو شمار اور تحقیقات کی کمیٹی ، عوامیم مشارکت کی کمیٹی ، حکومتی مشارکتی کمیٹی ، اور تعلیمی اور خدام کی کمیٹی ، اسی طرح ہمارا یہ بھی ارادہ ہے کہ خارجی زائرین کی خدمت کے لیے کہ جو مختصر مدت کے لیے سیستان و بلوچستان میں رکتے ہیں ان کی خدمت کے لیے تمام حکومتی اور عوامی وسایل سے  استفادہ کریں گے ۔

سیستان و بلوچستان کی چہلم کی عوامی کمیٹی کے دبیر نے بتایا : کمیٹی نے چار اصلی  محوروں ، شہری  فضا سازی ، ایرانی زائرین  کے امور ، پاکستانی زائرین کے امور  اور  کاروانوں کی روانگی  پر اپنے کام کا  آغاز کر دیا ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ زاہدان میں موجود بسیں مفت یا آدھے کرائے پر پاکستانی زائرین کو پیادہ روی کے مقام تک پہنچائیں گی ۔

یہ بتا دینا ضروری ہے کہ پاکستانی زائرین میر جاوہ اور زاہدان میں ایک دن رکنے کے بعد عراق کی جانب حرکت کریں گے اور ایران میں حرکت کے دوران چند مقامات پر عوامی موکب ان کا استقبال کریں گے ۔

حجۃ الاسلام و المسلمین رئیسی کے حکم سے آستان قدس رضوی کی خدمات ،k_01
آستان قدس رضوی کی کمیٹی نے بھی صوبے کی سطح پر صوبے کے لوگوں اور پاکستانی طلاب کی مدد سے مہمانوں کی ہر طرح کی مدد کا بندو بست کیا ہے جن میں زائرین کی کھانے پینے کی ضروریات ، اور رہنے کا خرچہ اور کلچرل ضرورتیں شامل ہیں ۔

About admin

Check Also

کل بھوشن کی بیوی 2ماہ سے لا پتہ

پاکستان میں سزائے موت کے منتظر بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘کے ایجنٹ کلبھوشن کی بیوی جسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!