Home / دلچسپ و عجیب / برمودا ٹرائی اینگل کا ‘معمہ حل’ ہونے کا دعویٰ مگر ۔۔۔

برمودا ٹرائی اینگل کا ‘معمہ حل’ ہونے کا دعویٰ مگر ۔۔۔

dawn-newsسائنسدانوں نے دنیا کے پراسرار ترین خطے سمجھے جانے والے برمودا ٹرائی اینگل کے راز کو ‘دریافت’ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔امریکی سائنسدانوں کے مطابق اس خطے کے اوپر پھیلے شش پہلو بادل ممکنہ طور پر بحری جہازوں اور طیاروں کی گمشدگی کا باعث بنتے ہیں۔10041-01-burmoda-25oct16

کولوراڈو یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ شش پہلو بادل 65 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں پیدا کرتے ہیں جو ‘ہوائی بم’ کی طرح کام کرتے ہوئے بحری جہازوں کو غرق اور طیاروں کو گرا دیتی ہیں۔

خیال رہے کہ فلوریڈا، برمودا اور پیورٹو ریکو کے سمندری خطے کی تکون کو برمودا ٹرائی اینگل کا نام دیا گیا ہے جہاں دہائیوں سے بحری جہاز اور طیارے پراسرار طور پر غائب ہونے کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں اور ان کا ملبہ بھی تلاش نہیں کیا جاسکا۔

اب سائنسدانوں نے ناسا کے سیٹلائیٹ کا استعمال کرتے ہوئے اس خطے کا ڈیٹا اکھٹا کیا اور شش پہلو بادلوں کو دریافت کیا جو کہ 32 اور 88 کلو میٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بادل انتہائی غیر معمولی ہیں ‘ آپ عام طور پر بادلوں کے ایسے کونے نہیں دیکھتے’۔

انہوں نے مزید بتایا ‘ اس طرح کے بادل سمندر کے اوپر ہوائی بموں کی طرح کام کرتے ہیں، وہ ہوا کے دھماکے کرتے ہیں اور نیچے آکر سمندر سے ٹکرا کر ایسی لہریں پیدا کرتے ہیں جو کہ بہت زیادہ بلند ہوتی ہیں’۔

مگر اس تحقیق میں اس سوال کا جواب سامنے نہیں آسکا کہ اگر یہ بادل بحری جہازوں اور طیاروں کی تباہی کا باعث بنتے ہیں تو ان کا ملبہ کہاں جاتا ہے، کیونکہ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال اس خطے میں اوسطاً چار طیارے اور 20 بحری جہاز گم ہوجاتے ہیں۔

تاہم پھر بھی اس معمے کے حوالے سے سائنسدان اسے ایک اہم پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔

About admin

Check Also

کل بھوشن کی بیوی 2ماہ سے لا پتہ

پاکستان میں سزائے موت کے منتظر بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘کے ایجنٹ کلبھوشن کی بیوی جسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!