بلوچستان میں سوگ، کوئٹہ میں’ کومبنگ آپریشن‘ کا فیصلہ

0
8

BBC Urdu_29 ۔اگست 16: پاکستان کے صوبہ پلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ ثنا اللہ زہری نے کہا ہے کہ سول ہسپتال میں خودکش دھماکے کے بعد دارالحکومت کوئٹہ میں کومبنگ آپریشن کیا جائے گا اور پورے صوبے میں جہاں جہاں دہشت گرد موجود ہوں گے ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

پیر کی صبح کوئٹہ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں ہلاک شدگان کی تعداد 71 تک پہنچ گئی ہے اور اس واقعے پر سرک8030.01 CombingOpt  09Aug16اری سطح پر تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔ آرمی چیف کی سربراہی میں راولپنڈی میں ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس میں کہا گیا کہ کوئٹہ حملہ آپریشن ضربِ عضب کی کامیابیوں کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔

بلوچستان پولیس نے اس خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے صوبائی حکومت سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی درخواست بھی کی ہے۔وزیراعلیٰ ثنا اللہ زہری نے سول ہسپتال کے دورے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تحقیقات کے دوران متعدد افراد کو گرفتار ب8030.02 CombingOpt  09Aug16ھی کیا گیا ہے تاہم اس کی تفصیلات میڈیا کو نہیں بتائی جا سکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بلوچستان میں ہونے والے حملوں میں افغان اور انڈین خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے ثبوت پیش کیے جا چکے ہیں اور گرفتار افراد کو میڈیا سے سامنے بھی پیش کیا جا چکا ہے۔پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے بدھ کو نیشنل ایکشن پلان پر تفصیلی بات چیت کے لیے اجلاس بھی طلب کیا ہے۔8029.03 QtaBBC  08Aug16

 یہ دھماکہ پیر کی صبح شہر کے سول ہسپتال کے شعبۂ حادثات کے باہر ہوا تھا اور نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار عطااللہ لانگو نے بتایا ہے کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے وکلا کی تعداد 40 سے زائد ہے۔ کوئٹہ کے ڈی آئی جی آپریشن چوہدری منظور سرور نے منگل کو بی بی سی اردو کو بتایا کہ دھماکے کے خودکش ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے اور خودکش حملہ آور کی باقیات تجزیے اور شناخت کے لیے متعلقہ اداروں کے سپرد کر دی گئی ہیں۔8029.02 QtaBBC  08Aug16

ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی انوسٹیگیشن کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جا چکی ہے تاہم صوبائی حکومت کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے لیے خط بھی لکھ دیا گیا ہے۔ منگل کو وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملک کی داخلی سکیورٹی صورتحال اور نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لیا گیا۔8029.01 QtaBBC  08Aug16

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسے نظریےسے حالتِ جنگ میں ہیں جو ہمارے طرزِ حیات کو بدلنا چاہتا ہے۔ انھوں نے ملک کو دہشت گردی اور انتہاپسندی سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔خیال رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے پیر کو کوئٹہ میں وکیل رہنما کی ہلاکت اور بعد میں سول ہسپتال میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

جس وقت دھماکہ ہوا تو ہسپتال میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی میت لائی گئی تھی جنھیں پیر کی صبح ہی کوئٹہ کے علاقے منوں جان روڈ پر نامعلوم افراد نے گھر سے عدالت جاتے ہوئے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی ان کے آبائی علاقوں میں تدفین کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور اس موقع پر صوبے بھر میں سوگ منایا جا رہا ہے۔8029.05 QtaBBC  08Aug16

سوگ کے موقع پر تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے جبکہ کوئٹہ شہر کے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔ کوئٹہ سے نامہ نگار کے مطابق دھماکے کے خلاف انجمن تاجران کی کال پر کوئٹہ بھر کے کاروباری مراکز میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے اور شہر میں ٹریفک بھی معمول سے کم ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی اس واقعے پر سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اس موقع پر کوئٹہ سمیت ملک بھر میں وکلا نے منگل کو8030.03 CombingOpt  09Aug16 عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں وکلا احتجاجی ریلیاں بھی نکال رہے ہیں.منگل کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے مختلف بینچوں میں بھی عدالتی کارروائی ملتوی کر دی گئی ہے۔دھماکے کے بعد ملک کی اعلیٰ شخصیات کے کوئٹہ کے دوروں کا سلسلہ جاری ہے۔