حج کے دوران پاکستانیوں سمیت 50 سے زیادہ مشتبہ دہشت گرد گرفتار

0
21
Saudi police officers monitor screens connected to cameras to monitor crowds of pilgrims at holy places in Mina and at the Grand Mosque in Mecca, Saudi Arabia, Wednesday, Oct. 16, 2013. More than 2 million pilgrims _ about 1 million fewer than last year _ perform the hajj, a central pillar of Islam and one that able-bodied Muslims must make once in their lives, is a four-day spiritual cleansing based on centuries of interpretation of the traditions of Prophet Muhammad. (AP Photo/Amr Nabil)

al-Arabiyaسعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے حج کے دوران تین سے گیارہ ستمبر تک چوّن مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔ان میں تین پاکستانی بھی شامل ہیں۔

ان مشتبہ دہشت گردوں میں تیس سعودی اور تیرہ بحرینی ہیں اور باقی گیارہ مشتبہ افراد مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں ایک برونائی دارالسلام کا بھی باشندہ ہے اور وہ اس جنوب مشرقی ایشیا سے تعلق رکھنے والا پہلا شخص ہے جس کو دہشت گردی کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔

Saudi police officers monitor screens connected to cameras to monitor crowds of pilgrims at holy places in Mina and at the Grand Mosque in Mecca, Saudi Arabia, Wednesday, Oct. 16, 2013. More than 2 million pilgrims _ about 1 million fewer than last year _ perform the hajj, a central pillar of Islam and one that able-bodied Muslims must make once in their lives, is a four-day spiritual cleansing based on centuries of interpretation of the traditions of Prophet Muhammad. (AP Photo/Amr Nabil)
Saudi police officers monitor screens connected to cameras to monitor crowds of pilgrims at holy places in Mina and at the Grand Mosque in Mecca, Saudi Arabia, Wednesday, Oct. 16, 2013. More than 2 million pilgrims _ about 1 million fewer than last year _ perform the hajj, a central pillar of Islam and one that able-bodied Muslims must make once in their lives, is a four-day spiritual cleansing based on centuries of interpretation of the traditions of Prophet Muhammad. (AP Photo/Amr Nabil)

سعودی حکام نے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کو دارالحکومت الریاض سے پکڑا گیا تھا اور اس نے گرفتاری کے وقت کوئی مزاحمت نہیں کی تھی۔اب اس سے سعودی عرب میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات یا کسی دہشت گرد تنظیم سے کسی قسم کے تعلق کے الزام میں تحقیقات کی جارہی ہے۔

اس مرتبہ سعودی حکومت نے حج کے دوران سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے تھے۔ مسجد الحرام کے ارد گرد دس مربع کلومیٹر کے علاقے میں ہرقسم کی نقل وحرکت کو مانیٹر کرنے کے لیے جگہ جگہ پچاس ہزار سے زیادہ سکیورٹی کیمرے نصب تھے اور ان کی ایک کنٹرول روم سے نگرانی کی جارہی تھی۔سعودی سکیورٹی افسروں نے ہر شاہراہ ،راستے اور اجتماع کی جگہ پر کڑی نظر رکھی ہوئی تھی۔

ان سکیورٹی کیمروں کے ذریعے اگر کسی جگہ گڑ بڑ یا بھیڑ کا پتا چلتا تو پھر سکیورٹی حکام آپریشنز مراکز کو کسی بھی مسئلے کو رونما ہونے سے قبل ہی روکنے کے لیے مطلع کردیتے تھے۔ان سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے حج کے دوران کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

مکہ معظمہ میں مسجد الحرام اور مناسک حج کی تمام جگہوں پر سکیورٹی فورسز کے ہزاروں چاق چوبند اہلکار تعینات تھے۔انھوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے علاوہ معذور اور ضعیف العمر حجاج کرام کو مناسب حج کی ادائی میں بھی مدد دی ہے۔