حزب اللہ کمانڈر مصطفیٰ بدرالدین کا قاتل کون؟َ

0
46

al-Arabiyaگذشتہ برس 13 مئی کو لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اچانک تنظیم کے اہم کمانڈر مصطفیٰ بدرالدین کے شام میں مارے جانے کا اعلان کرتے ہوئے اس کی تعزیت کا اعلان کیا۔ مصطفیٰ بدرالدین کے قتل کی فوری اور شفاف تحقیقات کا اعلان بھی کیا گیا مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بدرالدین کی ہلاکت اور اس کی تحقیقات کا معاملہ کئی الجھنوں کا شکار ہوگیا۔

03053.01 Syria 08Mar17’ذوالفقار‘ کے لقب سے مشہور حزب اللہ کمانڈر مصطفیٰ بدرالدین کا شکار حسن نصراللہ کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ اس کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد پتا چلا کہ وہ کئی روز قبل دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایک پراسرار کارروائی میں ہلاک کیا گیا تھا مگر اس کی ہلاکت کی خبر کو بہ وجوہ خفیہ رکھا گیا۔

تحقیقات کے بعد پتا چلا کہ مصطفیٰ بدرالدین کی موت شام میں محاذ جنگ پر لڑتے ہوئے نہیں ہوئی بلکہ انہیں قاتلانہ حملے میں قتل کیا گیا۔ مگر حسن نصراللہ کے مقرب حزب اللہ کمانڈر کے قاتل کا کوئی پتا نہ چلا۔

سنہ 2013ء کو حزب اللہ نے شام میں اپنے مزید جنگجو بھیجنے کا اعلان کیا تو مصطفیٰ بدرالدین کو حزب اللہ جنگجوؤں کا شام میں کمانڈر مقرر کرکے دمشق روانہ کردیا گیا۔ مصطفیٰ بدرالدین اکیلا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایران کی بیرون ملک سرگرم القدس ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اورپاسداران انقلاب کے کئی جنگجو بھی موجود تھے۔

جنرل قاسم سلیمانی نے مصطفیٰ بدرالدین کی جنگی مہارت کو نظر انداز کیا اور شام میں ایران نواز جنگجوؤں کی قیادت اپنے ہاتھ میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ جنگ میں بعض مقامات پر حزب اللہ جنگجوؤں کو کامیابیاں ملیں تو ساتھ ہی ساتھ بدرالدین کو یکے بعد دیگر کئی خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران حزب اللہ کو میدان جنگ میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تو اس کی ذمہ داری بھی مصطفیٰ بدرالدین پرعاید کی گئی۔

یہ انکشاف بھی ہوا کہ جنرل سلیمانی حزب اللہ جنگجوؤں کو محاذ جنگ پرموجود ایرانیوں فوجیوں کے لیے ڈھال کے طور پراستعمال کرتے ہیں۔ اگلےمورچوں پر حزب اللہ کے جنگجوؤں کو لڑائی کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ اس پر جنرل سلیمانی اور مصطفیٰ بدرالدین کےدرمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ میدان جنگ میں حزب اللہ جنگجوؤں کی تعیناتی اپنی مرضی اور جنگی مہارت کی روشنی میں خود کریں گے۔

03053.02 Syria 08Mar17ادھر دوسری جانب لبنان کی ایک عدالت میں سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کے جرم میں مصطفیٰ بدرالدین کے خلاف مقدمہ بھی چل رہا تھا۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ پر مصطفیٰ بدرالدین کے حوالے سے دو اطراف سے دباؤ تھا۔ ایک طرف شام میں موجود جنرل سلیمانی مصطفیٰ بدرالدین کی من مانی سے نالاں تھے اور وہ کسی نا کسی ذریعے بدرالدین کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لیے کوشاں تھے۔ دوسری جانب حزب اللہ حیلوں بہانوں سے حریری کے قاتل کا بوجھ اپنے کندھوں پر مزید اٹھائے رکھنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

چنانچہ 12 مئی 2016ء کی شام کو جنرل سلیمانی اور حسن نصراللہ نے ایک خفیہ ملاقات کی جس میں مصطفیٰ بدرالدین المعروف ذوالفقار کو ٹھکانے لگانے سے اتفاق کیا گیا۔ اس اجلاس کے بعد 12 اور 13 مئی کی درمیانی شب دمشق کے ہوائی اڈے کے قریب ایک دھماکے میں مصطفیٰ بدرالدین کو قتل کردیا گیا۔

دو روز بعد 14 مئی کو حزب اللہ کے مقرب اخبارات نے ایک ابتدائی رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا ہے کہ مصطفیٰ بدر الدین کو جس رات دمشق کے ہوائی اڈے پر ہلاک کیا گیا وہ اسی شب وہاں پہنچے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مصطفیٰ بدر الدین تین دوسرے افراد کے ہمراہ ایک اہم اجلاس میں شرکت کے لیے دمشق پہنچا تھا مگر قاتلوں نے صرف مصطفیٰ بدرالدین کو قتل کیا۔

Hezbollah members carry the coffin of top Hezbollah commander Mustafa Badreddine, who was killed in an attack in Syria, during his funeral in Beirut's southern suburbs, Lebanon, May 13, 2016. REUTERS/Aziz Taher

مصطفیٰ بدرالدین کی ہلاکت کے بعد العربیہ ٹی وی چینل پر ایک رپورٹ نشر کی گئی جس میں تصاویر کی مدد سے دکھایا گیا تھا کہ جس جگہ مصطفیٰ بدرالدین کے ایک بم دھماکے میں ہلاک ہونے کی خبریں آئی تھیں ہاں دھماکے کا کوئی نشان موجود نہیں۔ اس کے علاوہ دمشق ہوائی اڈے کے سب سے قریب مخالف جنگجو گروپ بھی 12 کلو میٹرکی مسافت پر تھا۔ اس لیے کسی دستی بم یا کم فاصلے سے داغے گئے گولے سے اس کی ہلاکت ممکن نہیں۔

صطفیٰ بدرالدین کی ہلاکت کو ایک سال ہونے کو ہے مگر ابھی تک بہت سے سوالات کا جواب نہیں مل سکا۔ قتل کی شب دمشق ہوائی اڈے پر کیا ہوا، بدر الدین کو جال میں کس نے پھنسایا۔ یہ منصوبہ تیار کس نے کیا۔ آخری وقت میں اس کے ساتھ دوسرے تین افراد کون تھے جن کے ساتھ وہ اجلاس کرنے آرہے تھے؟

قاتلوں نے صرف مصطفیٰ بدرالدین ہی کو کیوں نشانہ بنایا؟ یہ تمام ایسے سوالات ہیں جن کا جواب نہیں مگر اس سے اس تاثر کو تقویت ضرور ملتی ہے کہ مصطفیٰ بدرالدین کی کے قتل کا ناٹک خود حزب اللہ کا اپنا رچایا ہوا ہے۔