حلب میں لاشوں کے انبار، تباہی وبربادی کی منہ بولتی تصاویر

0
21

al-arabiyaشام کے شمالی شہ حلب میں گذشتہ دو سال سے شامی فوج اور اس کے حلیف نہتے شہریوں کا وحشیانہ قتل عام کر رہے ہیں۔

12010-10-halub-02dec16 12010-09-halub-02dec16 12010-08-halub-02dec16 12010-07-halub-02dec16 12010-06-halub-02dec16 12010-05-halub-02dec16 12010-04-halub-02dec16 12010-03halub-02dec16 12010-02-halub-02dec16
حلب کے مکانات اور آباد بستیاں تو ویران ہو ہی چکی ہیں مگر شہر کی گلیاں، سڑکیں او محلے انسانی لاشوں کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

خواتین سے لے کر کم سن بچوں تک ہر عمر کے افراد کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں سڑکوں پر پھینک دی گئی ہیں۔ کوئی انہیں اٹھانے اور زمین میں دفن کرنے والا بھی باقی دکھائی نہیں دیتا۔

گذشتہ روز پرانے حلب شہر میں بشار الاسد کی وفادار فوج اور اس کی حمایت میں لڑنے والی دہشت گرد تنظیموں نے وحشیانہ بمباری کی۔

حلب میڈیا سینٹر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ روز شامی فوج اس کی حامی ملیشیاؤں کے حملوں میں کم سے کم 45 عام شہری مارے گئے۔

مرنے والوں میں بیشتر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ ان شہریوں پر اس وقت گولہ باری کی گئی جب وہ شہر کے مغربی حصے سے فرار کے بعد مشرق کی طرف جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

حلب میڈیا سینٹر کی طرف سے اسدی فوج کی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے عام شہریوں کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک فوٹیج بھی دکھائی گئی ہے جس میں جگہ جگہ بکھری انسانی لاشیں عالمی ضمیر کا ماتم کررہی ہیں۔

ایک نوجوان نے بتایا کہ اسدی فوج کی بمباری سے اس کی والدہ فوت ہوگئیں جب کہ ایک ہمشیرہ شدہد زخمی ہیں۔ ایک جگہ بیٹھے نوجوان کو شہید ہونے والے اپنے اہل خانہ کے پاس روتے دکھایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ لڑائی کے دوران محصور علاقوں سے 50 ہزا شہریوں نے نقل مکانی کی ہے مگر اب بھی 2 لاکھ 50 ہزار شامی باشندے اسدی فوج اور اس کی حامی ملیشیا کے محاصرے میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔