al-Arabiyaمبصرین کے نزدیک یمن کے معزول ص116.01 Yemen 30Jul6در علی عبداللہ صالح کی سیاسی جماعت جنرل پیپلز کانگریس نے ملک کے امور چلانے کے لیے ایک سیاسی کونسل تشکیل دینے سے متعلق حوثیوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے.. وہ نہ صرف باغیوں کی جانب سے کویت مذاکرات کا سقوط ہے بلکہ اس سے جنرل پیپلز کانگریس کے اندر پھوٹ پڑجانے کا خطرہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔

معاہدے طے پانے کے بعد چوبیس گھنٹ116.03 Yemen 30Jul6وں سے بھی پہلے عدن، حضرموت اور مارب صوبوں میں صالح کی سیاسی جماعت کی شاخوں نے معاہدے کو مسترد کرنے اور ساتھ ہی صدر عبدربہ منصور ہادی کی آئینی حیثیت اور ڈاکٹر احمد عبید بن دغر کی حکومت کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک کے شمال اور جنوب میں دیگر صوبوں کی شاخوں کی جانب سے بھی مماثل مواقف سامنے آئیں گے۔

عدن ، مارب اور حضرموت صوبوں میں جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کی شاخوں کی جانب سے معاہدے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان شاخوں نے اپنے علاحدہ بیانوں میں کہا ہے کہ “انقلابی فریقوں کی جانب سے س116.02 Yemen 30Jul6یاسی کونسل کی تشکیل اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ یمن میں سیاسی حل سے متعلق تمام امکانات کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اقدام سیاسی جانب باقی رہ جانے والے عناصر کو تباہ کرنے کے لیے ہے۔ کونسل کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ قومی منشور کی صریح مخالفت ہے۔ جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کو اس معاہدے سے فوری طور پر لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہیے”۔