عراقی فورسز کی موصل کی جانب پیش قدمی، داعش پر گھیرا تنگ

0
12

al-Arabia_2عراقی وزیر دفاع خالد العبیدی نے کہا ہے کہ عراقی فورسز نے جو داعش تنظیم کے زیرقبضہ شہر موصل کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں، منگل کے روز ایک گاؤں کو تنظیم کے قبضے سے آزاد کرا لیا۔ اس کے بعد یہ فورسز ایک دوسری سمت سے آگے بڑھنے والے فوجی یونٹوں کے ساتھ مل گئی ہیں۔

یہ پیش قدمی جو رواں ہفتے ایک اہم فضائی اڈہ واپس لیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے ، موصل کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں مددگار ثابت ہوئی۔ یہ عراق کا دوسرا بڑا شہر واپس لینے کے لیے سرکاری فورسز کے آئندہ حملے کی تیاری کے سلسلے میں اہم پیش رفت 43.01 Mosal 13Julہے۔العبیدی نے ٹوئیٹر کے ذریعے بتایا کہ “صلاح الدین صوبے سے روانہ ہونے کے بعد آرمرڈ ڈویژن 9 کے دستوں اور انسداد دہشت گردی کے ادارے نے القیارہ اڈے کے شمال میں واقع گاؤں اِجحلہ کو آزاد کرا لیا”

انہوں نے مزید بتایا کہ مذکورہ فورسز دریائے دجلہ کے کنارے پہنچ گئیں جہاں وہ نینویٰ صوبے کو آزاد کرانے کے آپریشنز میں شریک یونٹوں سے جا ملیں۔فوجی ترجمان کے مطابق آخری عرصے میں واپس لیے جانے والے علاقوں کو اب بھی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ متعدد شہروں میں داعش کے عناصر چُھپے ہوئے ہیں۔عراقی سرکاری فورسز نے گزشتہ ہفتے کے روز امریکا کے زیرقیادت اتحاد کی فضائی سپورٹ کے ساتھ القیارہ کے فضائی اڈے کو واپس لے لیا تھا جو موصل پر بنیادی حملے کے لیے امدادی مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکی وزیردفاع ایشٹن کارٹر نے پیر کے روز 560 اضافی فوجیوں کو عراق بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ ان اہل کاروں کی اکثریت القیادہ کے اڈے پر فرائض انجام دیں گے تاکہ موصل کی جانب عراقی پیش قدمی کی سپورٹ کی جاسکے۔ موصل داعش تنظیم کے زیرکنٹرول سب سے بڑا شہر ہے۔عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے رواں سال کے اختتام سے قبل موصل شہر کو واپس لیے جانے کا عہد کیا گیا تھا۔