سعودی عرب میں دھماکوں کی تحقیقات، 12 پاکستانی گرفتار

0
15

BBC

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب خودکش دھماکہ کرنے والا شخص سعودی شہری تھا جو منشیات کا عادی تھا۔11.01 Saudi  07Jul

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پانچ جولائی کو ہونے والے تین
خودکش حملوں کی تحقیقات میں 19 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے 12 پاکستانی ہیں۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مسجد نبوی کے قریب دھماکہ کرنے والا 26 سالہ سعودی شہری نائر مسلم حماد النجیدی تھا جو منشیات کا عادی تھا۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مدینہ میں کیے گئے خود کش دھماکے میں نائٹروگلیسرین کے نمونے ملے ہیں۔واضح رہے کہ پانچ جولائی کو سعودی عرب کے تین شہروں میں خودکش حملے کیے گئے تھے۔ سب سے پہلا جدہ میں امریکی قونصلیٹ کے باہر، دوسرا شیعہ اکثریتی علاقے قطیف اور تیسرا مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب ہوا تھا۔

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ قطیف میں حملہ کرنے والے 23 سالہ عبدالرحمان العمر، 20 سالہ ابراہیم العمر اور 20 سالہ عبدالکریم الحسنی تھی۔یاد رہے کہ سعودی حکام کا کہنا تھا کہ جدہ میں امریکی قونصل خانے کے باہر خودکش دھماکہ کرنے والا شخص ایک پاکستانی تھا تاہم پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے فی الحال اس امر کی تصدیق سے انکار کیا ہے کہ مذکورہ شخص پاکستانی شہری ہے۔11.02 Saudi  07Jul

یہ دھماکہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سحری کے وقت ہوا تھا اور اس میں خودکش حملہ آور ہلاک اور اسے روکنے کی کوشش کرنے والے دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

منگل کو سعودی وزارتِ داخلہ کے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤئنٹ سے جاری کیے جانے والے پیغامات میں کہا گیا تھا کہ حملہ آور کا نام عبداللہ گلزار خان ہے جو ایک پاکستانی شہری ہے اور 12 برس قبل ڈرائیور کی نوکری کرنے کے لیے سعودی عرب آیا تھا۔پیغام کے مطابق 15 ستمبر 1981 کو پیدا ہونے والا عبداللہ گلزار خان سعودی عرب میں اپنی اہلیہ اور ان کے والدین کے ہمراہ مقیم تھا۔سعودی وزارتِ داخلہ نے ان پیغامات کے ساتھ ہی عبداللہ گلزار خان کی تصویر بھی جاری کی تھی۔بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے حکام نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ عبداللہ گلزار خان نامی یہ شخص پاکستانی ہے۔