عراق پر حملہ غیرقانونی تھا: سابق برطانوی نائب وزیراعظم

0
13

BBCسنہ 2003 میں عراق پر لشکر کشی کے وقت اس وقت کے برطانیہ کے نائب وزیر اعظم جان پریسکوٹ نے کہا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کا عراق پر حملہ غیرقانونی تھا۔

برطانوی اخبار ’سنڈے مرر‘ میں انھوں نے لکھا ہے کہ انھیں ’تاحیات اس تباہ کن فیصلے کے ساتھ زندگی بسر کرنی ہو گی۔‘لارڈ پریسکوٹ نے کہا کہ وہ اب ’انتہائی غم و غصے‘ کی حالت میں اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان سے متفق ہیں کہ ’جنگ غیرقانونی تھی۔‘19.01 Iraq  10Jul

انھوں نے لیبر پارٹی کے جیرمی کوربن کی پارٹی کی جانب سے معافی طلب کرنے پر تعریف کی ہے۔لارڈ پریسکوٹ نے یہ بھی لکھا ہے کہ مارچ میں حملے سے قبل امریکی صدر جارج ولیم بش کے نام برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا پیغام کہ ’چاہے کچھ بھی ہو، ہم آپ کے ساتھ ہیں،‘ تباہ کن تھا۔

انھوں نے لکھا: ’کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب ہم جنگ میں جانے کے فیصلے کے بارے میں نہیں سوچتے۔ ان برطانوی فوجیوں کے بارے میں جنھوں نے اپنی زندگی دی اور اپنے ملک کے لیے زخم اٹھائے۔ ان پونے دو لاکھ لوگون کی موت کے بارے میں جو صدام حسین کو ہٹانے اور ہمارے پینڈورا باکس کھولنے کے نتیجے میں واقع ہوئیں۔‘

لارڈ پریسکوٹ نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ جیریمی کوربن نے لیبر پارٹی کی جانب سے ان لوگوں سے معافی طلب کی جن کے رشتے دار یا تو مارے گئے یا پھر زخمی ہوئے۔انھوں نے بطور خاص برطانوی فوجیوں کے اہل خانہ سے معافی طلب کی جنھوں نے اس جنگ میں جانیں گنوائیں۔سابق نائب وزیر اعظم نے کہا کہ چلکوٹ رپورٹ نے غلطی کی تفصیل سے وضاحت کی ہے لیکن انھوں نے اس سے بعض سبق سیکھنے کی نشاندہی کی۔

19.02 Iraq  10Julانھوں نے لکھا: ’میری پہلی تشویش ٹونی بليئر کے کابینہ چلانے کے انداز پر ہے۔ ہمیں اتنی کم دستاویزات دی گئیں کہ ہم اس کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کر سکتے تھے۔‘

عراق پر لشکر کشی کے خلاف اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ کی رائے کے متعلق کوئی دستاویز فراہم نہیں کی گئی۔

سر جان چلکوٹ کی سربراہی میں برطانیہ کے عراق پر حملے کی رپورٹ گذشتہ ہفتے شائع ہوئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ عراق کے وسیع پیمنے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خطرے کو جس یقین کے ساتھ سامنے لایا گیا تھا اس کا کوئی جواز نہیں پیش کیا گیا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ برطانوی فوج کو نامناسب تیاری اور اسلحے کے سبب پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور جنگ کے بعد کے منصوبے ’پوری طرح نامناسب تھے۔‘

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنہ 2003 کا حملہ ’آخری حربہ نہیں تھا جیسا کہ رکن پارلیمان اور عوام کے سامنے پیش کیا گیا اور یہ کہ صدام حسین سے برطانیہ کو کوئی ’ناگزیر خطرہ لاحق نہیں تھا۔‘

اس سے قبل ٹونی بلیئر نے غلطیوں کے لیے معافی طلب کی تھی تاہم جنگ چھیڑنے کے فیصلے پر نہیں۔