قومی شاہراہ پر مذہبی تنظیم کا دھرنا، پولیس کی شیلنگ

0
48

dawn-newsکراچی: مذہبی جماعت کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف کراچی کے علاقوں ملیر 15 اور شاہراہ پاکستان پر احتجاجی دھرنے کے شرکاء کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے ہوائی فائرنگ کی جس میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

مظاہرین کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں پر پتھراو کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جنھیں علاج کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔11031-00-dharna-07nov16

دوسری جانب مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ پولیس کی شیلنگ سے متعدد افراد بھی زخمی ہوئے جبکہ پولیس نے کم سے کم 25 مظاہرین کو گرفتار بھی کرلیا۔

پولیس ذرائع نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اطراف کی سڑکوں پر موجود متعدد لاوارث موٹر سائیکلوں کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔11031-01-dharna-07nov16

ڈان نیوز کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے بعد قومی شاہراہ کے دونوں ٹریک کھول دیئے ہیں، جس کے بعد کئی گھنٹوں سے معطل ٹریفک بحال ہوگیا ہے۔

خیال رہے کہ شیعہ نمائندہ تنظیم مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے کارکنوں نے ملیر 15 کے علاقے میں گذشتہ رات ڈیڑھ بجے سے دھرنا دے رکھا ہے، جن کا مطالبہ ہے کہ گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے۔

رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے ملیر 15 کے علاقے میں ریل کی پٹڑی پر بھی چڑھنے کی کوشش کی تھی، جنھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی گئی۔11031-02-dharna-07nov16

پولیس کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کی کئی کوششیں ناکام رہیں، تاہم بعدازاں ایئرپورٹ جانے والا ایک ٹریک ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تھا۔

ملیر میں احتجاج اور مظاہرین کے دھرنے کے باعث نیشنل ہائی وے پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا تھا اور اسکول، کالجز اور دفاتر جانے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ملیر کے مختلف علاقوں میں کاروبارِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ناظم آباد اور ناگن چورنگی کے علاقے میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے سربراہ علامہ مرزا یوسف حسین اور اہل سنت والجماعت کے سیکریٹری جنرل تاج حنفی کو حراست میں لیا تھا۔

مزید پڑھیں:کراچی: علامہ مرزا یوسف حسین اور تاج حنفی زیر حراست

دوسری جانب پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں کومبنگ اور سرچ آپریشنز کے دوران دیگر متعدد افراد کو بھی حراست میں لیا تھا۔

یہاں پڑھیں:پٹیل پاڑہ فائرنگ: سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی گرفتار

فیصل رضا عابدی کو بعدازاں پٹیل پاڑہ میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں شامل تفتیش کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور اب انھیں 19 نومبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جاچکا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین کے رہنما گرفتار

دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری احمد اقبال رضوی کو پولیس نے نیو رضویہ سوسائٹی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا اور ان کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہیں۔

ترجمان ایم ڈبلیو ایم نے علامہ احمد اقبال کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ محب وطن رہنماؤں کو بلاجواز گرفتار کیا جارہا ہے۔

پولیس کے ٹارگٹڈ آپریشن

پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق کراچی کے ان علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کیے گئے:

  • گلشن اور میٹروول، جہاں کالعدم جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا
  • پہلوان گوٹھ، جہاں سے 9 ملزمان کو گرفتار کیا گیا
  • حسین ہزارہ گوٹھ، جہاں سے 3 اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا گیا
  • گذشتہ رات نمائش چورنگی پر سڑک بلاک کرنے میں ملوث 2 ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا

پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق گرفتار ملزمان میں مٹھا خان ساند (جو اس سے قبل 64 مقدمات میں ملوث رہ چکا ہے)، محمد رمضان، محمد فتح، محمد شہزاد، لیاقت علی، علی نواز، ابراہیم، انیس اور وقار احمد شامل ہیں۔

ویڈیو