لیبی فوج نے سرت یونیورسٹی داعش سے چھڑالی

0
22
Fighters from forces aligned with Libya's new unity government clear an area in Zaafran in Sirte, June 11, 2016. REUTERS/Stringer.EDITORIAL USE ONLY. NO RESALES. NO ARCHIVE.

فوج کا جنگی طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک

al-Arabiya11-اگست16: لیبیا کی سرکاری فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فورسز نے بدھ کے روز ایک کارروائی کے دوران سرت شہر میں قائم سرت یونیورسٹی سے شدت پسند گروپ داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا ہے تاہم اس آپریشن میں سرت میں فوج کا ایک جنگی طیارہ تباہ ہو گیا۔

Fighters from forces aligned with Libya's new unity government clear an area in Zaafran in Sirte, June 11, 2016. REUTERS/Stringer.EDITORIAL USE ONLY. NO RESALES. NO ARCHIVE.
Fighters from forces aligned with Libya’s new unity government clear an area in Zaafran in Sirte, June 11, 2016. REUTERS/Stringer.EDITORIAL USE ONLY. NO RESALES. NO ARCHIVE.

لیبی فوج کے ترجمان رضا عیسیٰ نے بتایا کہ سرت میں جنگی طیارے کے حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب داعشی جنگجوؤں نے لیبی فوج کا ایک طیارہ مار گرانے اور اس کا پائلٹ ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خیال رہے کہ لیبی فوج نے اقوام متحدہ کی فورسز کی مدد سے سرت میں باغیوں کے خلاف آپریشن رواں سال مئی میں شروع کیا تھا۔ رواں اگست کے اوائل میں امریکی فوج نے بھی سرت میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا آغاز کر دیا تھا۔ امریکی فضائی حملوں کے بعد داعش کی زمینی پیش قدمی رک گئی تھی۔

افریقی ملکوں کےلیے مختص امریکی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ جنگی طیاروں اور بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کی مدد سے سرت میں داعش کے ٹھکانوں پر 29 حملے کیے گئے ہیں جن میں داعش کے کئی ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ سوموار کو ایک فضائی حملے میں داعش کے ایک اسلحہ بردار ٹرک اور منگل کو ایک توپ کو لے جانے والے ٹرک کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

خیا رہے کہ لیبیا کی فوج مقتول سابق صدر معمر القذافی کے آئی شہر سرت میں کئی ماہ سے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے۔ سرت آپریشن کے دوران لیبیا کی فوج کو بھی جنگجوؤں کے ہاتھوں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ فوجی ترجمان عسییٰ نے بتایا کہ فورسز نے گذشتہ روز سرت یونیورسٹی کے تمام حصے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یونیورسٹی کی تمام عمارتیں اب فوج کے کنٹرول میں ہیں اور داعش کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی صفائی کا کام جاری ہے۔