مبلغ ذاکر نائیک کی’قابل اعتراض‘ تقاریر کی تحقیقات

0
10

BBCانڈیا کی حکومت نے کہا ہے کہ ملک کے معروف اسلامی اسکالر اور مبلغ ذاکر نائیک کی مبینہ قابل اعتراض تقاریر کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اگر ضرورت ہوئی تو کارروائی کی جائےگي۔

اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میڈیا میں شائع‏ ہونے والی خبروں کے مطابق ذاکر نائیک کی تقاریر ’قابل اعتراض‘ ہیں اور اس بارے میں تحقیقات کے بعد مناسب کارروائی وزارت داخلہ کرے گي۔10.01 Zakir 07Jul

ذاکر نائیک کا معروف ادارہ ’اسلامک ریسرچ سینٹر‘ ممبئی میں واقع ہے اور اس دوران مہاراشٹر کی حکومت نے بھی ممبئی پولیس کو اسلامی مبلغ ذاکر نائیک کی تقاریر کی تفتیش کرنے کے بعد اس پر رپورٹ جمع کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

انڈین خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق مہاراشٹر کی حکومت نے تفتیش کے بعد ’مناسب کارروائی‘ کی بھی بات کہی ہے۔ریاست کے وزیراعلیٰ دیوندر فڈنویس نے ممبئی کے پولیس کمشنر کو احکامات دیے ہیں کہ ذاکر نائیک کی تقاریر اور اور ان کے ادراے کی فنڈنگ کی تفتیش کے بعد رپورٹ پیش کی جائے۔آفس ممبئی کے ڈونگري کے علاقے میں واقع ہے جہاں پر سکیورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گيا ہے۔10.02 Zakir 07Jul

اکر نائیک سے متعلق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اس طرح کی خبریں میڈیا میں نشر کی جانے لگیں کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے حملہ آور ذاکر نائیک سے متاثر تھے۔

اطلاعات کے مطابق کچھ حملہ آور ذاکر نائیک کو سنا کرتے تھے۔گذشتہ جمعے کو ہونے والے اس حملے میں حملہ آوروں سمیت 28 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ادھر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اس طرح کے تمام الزامات سے انکار کیا ہے کہ وہ اپنی تبلیغ سے کسی بھی طرح کی شدت پسندی پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا کوئی بھی ایسا ایک بھی خطاب نہیں ہے جس میں انھوں نے کسی معصوم کی جان لینے کی بات کہی ہو، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔ انڈین میڈیا میں گذشتہ چند روز سے ذاکر نائیک کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے اور بیشتر میڈیا گروپس کی جانب سے ان پر سخت تنقید ہو رہی ہے۔ڈاکٹر ذاکر نائیک ‎’پیس ٹی وی‘ کے شریک آپریٹر ہیں۔