Home / سائنس و ٹیکنالوجی / متنازع بل کی منظوری: پاکستان میں آزادی رائے پر کڑی قدغن

متنازع بل کی منظوری: پاکستان میں آزادی رائے پر کڑی قدغن

Shafaqna IRسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کمیٹی نے متنازع سائبر کرائم بل 2015 متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر شاہی سید کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس کے دوران سائبر کرائم بل 2015 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی گئی۔

بل کے متن کے مطابق:115.01 CyberCrimes 30Jul6

سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے ہائیکورٹ کی مشاورت سے عدالت قائم کی جائے گی۔ عدالت کی اجازت کے بغیر سائبر کرائم کی تحقیقات نہیں ہوسکیں گی۔
سائبر دہشت گردی پر 14سال قید اور 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔
نفرت انگیز تقریر، فرقہ واریت پھیلانے اور مذہبی منافرت پر 7 سال سزا ہوگی۔
دھوکہ دہی پر 3سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر شائع کرنے یا اپ لوڈ کرنے پر 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے پر 7 سال سزا ہوگی۔
انٹرنیٹ ڈیٹا کے غلط استعمال پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ موبائل فون کی ٹیمپرنگ پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
موبائل فوں سموں کی غیر قانونی فروخت پر 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
انٹرنیٹ مہیا کرنے والوں کا ڈیٹا عدالتی حکم کے بغیر شیئر نہیں کیا جائے گا۔
سائبرکرائم قانون کا اطلاق پاکستان سے باہر کسی بھی دوسرے ملک میں بیٹھ کر خلاف ورزی کے مرتکب افراد پر بھی ہوگا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے لائسنس ہولڈر کے خلاف کاروائی پی ٹی اے قانون کے مطابق ہوگی۔
عالمی سطح پرمعلومات کے تبادلے کے لیے عدالت سے اجازت لی جائی گی اور دوسرے ممالک سے تعاون بھی طلب کیا جاسکے گا۔
سائبر کرائم قانون کا اطلاق پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا پر نہیں ہوگا۔
یہ امر بھی قابل اطمینان ہے کہ سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے ہائیکورٹ کی مشاورت سے عدالت قائم کی جائے گی اور عدالت کی اجازت کے بغیر سائبر کرائم کی تحقیقات نہیں ہوسکیں گی۔
سائبر کرائم قانون کا اطلاق صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ملک سے باہر کسی بھی دوسرے ملک میں بیٹھ کر ریاستی سالمیت کے خلاف کام کرنے والے افراد پر بھی ہوگا۔ ریاستی سالمیت کے خلاف کام کرنے والے افراد کی گرفتاری کے لیے متعلقہ ممالک سے رجوع کیا جائے گا۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں انٹرنیٹ کی تیزی سے مقبولیت کے بعد دنیا حقیقتاً ایک عالمی گاؤں کی شکل اختیار کرگئی ہے، ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں دیگر سہولتیں میسر آئی ہیں وہیں جرائم پیشہ اور شیطانی دماغ رکھنے والے عناصر نے سائبر کرائم کے ذریعے خلق خدا کو ستانے کا ایک آسان طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔
بلاشبہ سائبر کرائم بھی دیگر جرائم کی طرح تباہ کن ثابت ہوتے ہیں اور گزشتہ دہائی سے سائبر کرائمز نے نہ صرف معصوم لوگوں کی زندگی برباد کر ڈالی بلکہ فراڈ اور دیگر جرائم کی مد میں لاکھوں لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہوچکے ہیں۔ سائبر کرائم کے قانون کے اطلاق کو قابل تحسین اقدام قرار دیا جاسکتا ہے لیکن مناسب ہوگا کہ اس سلسلے میں کوئی ابہام نہ چھوڑا جائے اور ہر جانب سے تحفظات کو دور کیا جائے۔

About admin

Check Also

کل بھوشن کی بیوی 2ماہ سے لا پتہ

پاکستان میں سزائے موت کے منتظر بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘کے ایجنٹ کلبھوشن کی بیوی جسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!