Home / دھشت گردی / محمد بن سلمان کا راستہ خطے کے لیے پر خطر

محمد بن سلمان کا راستہ خطے کے لیے پر خطر

یوں تو سعودی عرب کے جواں سال ولی عہد، شہزادہ محمد بن سلمان، کے سنہ 2015 میں سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوتے ہی سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں جارحیت کا عنصر حاوی نظر آنے لگا تھا، لیکن گزشتہ چند دنوں کی پیش رفت سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ سعودی عرب اندرونی طور پر بھی خاندانی حکمرانی سے شخصی آمریت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

شام کے علاوہ اسی دوران سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادیوں کی طرف سے قطر کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ یہاں بھی سعودی عرب قطر سے وہ پندرہ شرائط منوانے میں ناکام رہا جن میں الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کو بند کرنے کی شرط بھی شامل تھی۔بے شک یمن، شام اور قطر کے محاذوں پر سعودی عرب کو تاحال کچھ حاصل نہیں ہوا ہے، اس کے باوجود اب سعد الحریری سے استفعی کا اعلان کروا کے لبنان میں بھی ایک سیاسی بحران کھڑا کر دیا گیا ہے۔ریاض کے ہوائی اڈے پر میزائل حملے کا ذمہ دار محمد بن سلمان ایران کو ٹھہراتے ہیں اور ایران کی طرف سے ان الزامات کی تردید کے باوجود سعودی ولی عہد نے اسے اعلان جنگ قرار دیا ہے۔

ایران کی مخالفت میں ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیل پوری طرح محمد بن سلمان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ امریکہ میں سابق صدر اوباما کے دور اقتدار کے آخری دنوں میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر جتنی برہم اسرائیلی حکومت تھی اتنا ہی غصہ محمد بن سلمان کو تھا۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں یہ پہلا موقعہ تھا جہاں سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں واضح کشیدگی نظر آئی تھی۔مشرقی وسطی گزشتہ ایک صدی سے مغربی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا میدان بنا رہا ہے لیکن دنیا بھر کے ماہرین اور تجزیہ کار آج اس بات پر مکمل طور یک زبان ہیں کہ مشرق وسطی جتنا آج غیر مستحکم اور خطرناک صورت حال کا سامنا کر رہا ہے، اس پہلے کبھی اسے اتنی خطرناک صورت حال کا سامنا نہیں رہا۔

بیرونی محاذوں پر ناکامیوں اور خطرات کے باوجود داخلی محاذ پر محمد بن سلمان نے جو اقدامات کیے ہیں ان پر نہ صرف تجزیہ کار بلکہ امریکی خیفہ اداروں کے اہلکار بھی حیران ہیں۔سعودی عرب میں کرپشن کے نام پر جس پیمانے پر کارروائی کی گئی ہے اس کی کوئی نظیر سعودی تاریخ میں نہیں ملتی۔بین الاقوامی اخبارات میں شائع ہونے والے تبصروں اور تجزیوں میں مبصرین نہ صرف اس اچانک کارروائی پر انگشت بدنداں ہیں بلکہ وہ ان اقدامات کے نتائج کے بارے میں بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ پا رہے ہیں۔

سعودی عرب میں پالیسی سازی ہمیشہ ہی سات پردوں کے پیچھے کی جاتی رہی ہے، لیکن گزشتہ چند دنوں میں لیے جانے والے فیصلوں میں جس قسم کی راز داری برتی جا رہی ہے، ماضی میں اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔سعودی عرب میں انتقال اقتدار کے فیصلے افہام و تفہیم اور خاندانی سطح پر مفاہمت کی بنیاد پر ہی کیے جاتے رہے ہیں۔ سلطنت کے اہم فیصلوں میں یہ عنصر ہمیشہ مدِ نظر رہا ہے کہ آل سعود کے اہم افراد کو کسی نہ کسی سطح پر اقتدار میں شریک رکھ کر مطمئن رکھا جائے۔سعودی عرب کے اندرونی معاملات پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق کرپشن کے نام پر کی گئی کارروائی کو سعودی نوجوان میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے لیکن اس کا اصل مقصد تخت تک پہنچنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

بیرونی محاذوں پر ناکامیوں اور خطرات کے باوجود داخلی محاذ پر محمد بن سلمان نے جو اقدامات کیے ہیں ان پر نہ صرف تجزیہ کار بلکہ امریکی خیفہ اداروں کے اہلکار بھی حیران ہیں۔سعودی عرب میں کرپشن کے نام پر جس پیمانے پر کارروائی کی گئی ہے اس کی کوئی نظیر سعودی تاریخ میں نہیں ملتی۔

بین الاقوامی اخبارات میں شائع ہونے والے تبصروں اور تجزیوں میں مبصرین نہ صرف اس اچانک کارروائی پر انگشت بدنداں ہیں بلکہ وہ ان اقدامات کے نتائج کے بارے میں بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ پا رہے ہیں۔سعودی عرب میں پالیسی سازی ہمیشہ ہی سات پردوں کے پیچھے کی جاتی رہی ہے، لیکن گزشتہ چند دنوں میں لیے جانے والے فیصلوں میں جس قسم کی راز داری برتی جا رہی ہے، ماضی میں اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔

سعودی عرب میں انتقال اقتدار کے فیصلے افہام و تفہیم اور خاندانی سطح پر مفاہمت کی بنیاد پر ہی کیے جاتے رہے ہیں۔ سلطنت کے اہم فیصلوں میں یہ عنصر ہمیشہ مدِ نظر رہا ہے کہ آل سعود کے اہم افراد کو کسی نہ کسی سطح پر اقتدار میں شریک رکھ کر مطمئن رکھا جائے۔

سعودی عرب کے اندرونی معاملات پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق کرپشن کے نام پر کی گئی کارروائی کو سعودی نوجوان میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے لیکن اس کا اصل مقصد تخت تک پہنچنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ محمد بن سلمان نے جو راہ اختیار کی ہے اس کے مستقبل قریب اور مستقبل بعید میں کیا اثرات مرتب ہو ں گے ان کا مکمل طور پر احاطہ کیا جانا فی الوقت ممکن نہیں ہے لیکن یہ راہ بہت پر خطر دکھائی دیتی ہے اور نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے کو سنگین بحران سے دو چار کر سکتی ہے۔

About admin

Check Also

کل بھوشن کی بیوی 2ماہ سے لا پتہ

پاکستان میں سزائے موت کے منتظر بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘کے ایجنٹ کلبھوشن کی بیوی جسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!