Home / دھشت گردی / ’مخنث سماجی کارکنان‘ کو سینیٹ اجلاس میں مدعو کرنے کا فیصلہ

’مخنث سماجی کارکنان‘ کو سینیٹ اجلاس میں مدعو کرنے کا فیصلہ

dawn-newsاسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے معاشرے میں غیر اہم تصور کی جانے والی مخنث برادری کو درپیش مسائل اور ان کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے حل کے لیے مخنث سماجی کارکنان کو اجلاس میں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

12043-03mukhannas-10dec16یہ معاملہ کمیٹی کو اس وقت بھیجا گیا جب سینیٹر مولانا حافظ حمد اللہ نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران یہ معاملہ اٹھایا۔اجلاس کے دوران یہ بات مشاہدے میں آئی کہ مخنث پاکستانیوں کے حقوق کی ان کی کم عمری سے ہی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی جاتی ہے جو زندگی بھر جاری رہتی ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر نثار محمد نے کہا کہ ’ملک کا قانون جنس کی بنیاد پر کسی میں کوئی تفریق نہیں کرتا اور تمام افراد کے حقوق کو یقینی بناتا ہے، لیکن مخنث افراد سے ہمارے معاشرے کا رویہ انتہائی نامناسب ہے۔‘

کمیٹی نے ہیومن رائٹس کمیشن (این سی ایچ آر) سے کہا کہ وہ مخنث برادری کے حقوق کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے، خیبر پختونخوا اسمبلی کی متفقہ قرارداد اور کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن (کیڈ) کے بل کے مسودے کی روشنی میں اپنی تجاویز پیش کرے۔

یہ بھی پڑھیں: کامی سد: پاکستان کی پہلی مخنث ماڈل

12042-01mukhannas-10dec16کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کرے۔چار سال قبل سپریم کورٹ نے مخنث شہریوں کو مساوی حقوق اور شہری آزادی دینے کا حکم جاری کیا تھا، جس میں وراثت کا حق اور روزگار کے برابر مواقع دینے کا حکم بھی شامل تھا۔

12042-02mukhannas-10dec16خیبر پختونخوا اسمبلی میں صوبے کی مخنث برادری کو ووٹ ڈالنے کا حق دیئے جانے کے حوالے سے قرارداد منظور کی گئی تھی۔اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ’یہ پہلا موقع ہوگا جب مخنث افراد کو معاشرے کے اہم طبقے کے طور پر سامنے آنے کا موقع ملے گا۔‘

تاہم مخنث برادری کے حقوق سے متعلق مجوزہ بل کی تفصیلات پر بات نہیں کی گئی، جبکہ ’این سی ایچ آر‘ بھی مخنث افراد کو درپیش مسائل کم کرنے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: پشاور میں مخنث کے گھر کو آگ لگا دی گئی

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مخنث شہریوں کے لیے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔سینیٹر بابر نے صورتحال کو نادرا کی جانب سے نامعلوم والدین والے بچوں کو شناختی کارڈ کے اجرا کے آغاز سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر نادرا کوشش کرے تو مخنث افراد کو شناختی کارڈ کے اجرا کا معاملہ حل ہوسکتا ہے۔‘

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی سینیٹر ستارہ ایاز نے کمیٹی ارکان سے درخواست کی کہ سینیٹ کے اگلے اجلاس میں مخنث برادری کے نمائندگان کو مدعو کیا جائے، جہاں پارلیمنٹ کے تمام اراکین اور میڈیا موجود ہو تاکہ معاشرے میں ایک اچھا تاثر ملے۔

انسانی حقوق کمیشن بمقابلہ وزارت انسانی حقوق

12042-03mukhannas-10dec16اجلاس کے دوران کمیٹی کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور انسانی حقوق کی وزارت ’این سی ایچ آر‘ سے تعاون نہیں کر رہی۔

سینیٹر بابر نے کہا کہ ’یہ بات بالکل واضح ہے کہ انتظامیہ اور متعلقہ وزارت متعصب ہے اور انسانی حقوق کمیشن کی راہ میں ہر وقت روڑے اٹکانے کی کوشش کرتی ہے۔

About admin

Check Also

کل بھوشن کی بیوی 2ماہ سے لا پتہ

پاکستان میں سزائے موت کے منتظر بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘کے ایجنٹ کلبھوشن کی بیوی جسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!