معرکہ موصل: داعش کی نقل وحرکت روکنے کے لیے دریائے دجلہ کا پل تباہ

0
2

al-arabiyaامریکی فوج نے فضائی حملوں میں شمالی عراق کے شہرموصل کے مغربی اور مشرقی حصوں کو ملانے والے دریائے دجلہ پر بنے ایک پُل کو تباہ کردیا ہے تاکہ شدت پسند گروپ داعش کےنقل وحرکت کو روکا جاسکے۔

An Iraqi special forces soldier shouts in front of a burning house after an Islamic State suicide car bomb attack against Iraqi special forces during clashes in Mosul الدولة الإسلامية تقتل 12 من مقاتلي العشائر السنية وعناصر الشرطة جنوبي الموصل A man looks out of the window of a house destroyed by an Islamic State suicide car bomb attack in Mosul 11088-01-mosuldarya-23nov16 An Iraqi special forces soldier fires his rifle after an Islamic State suicide car bomb attack against Iraqi special forces during clashes in Mosul An Iraqi special forces soldier gestures after an Islamic State suicide car bomb attack at Iraqi special forces soldiers during clashes in Mosulادھر موصل میں بعض مقامات پر گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ موصل کے مغربی شہر تل عفر پر شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے جنگجوؤں کی یلغار کی بعد بھاری تعداد میں شہری محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کررہے ہیں۔ شہریوں کی سب سے بڑی تعداد شامی سرحد سے متصل البعاج شہرکی طرف جا رہی ہے۔ البعاج اس وقت داعش کے زیرتسلط ہے۔

قبل ازیں کرد ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ منگل کے روز الحشد الشعبی نے تل عفر پر حملہ کیا تھا جس کے بعد بڑی تعداد میں شہری نقل مکانی کر رہے ہیں۔“العربیہ” کے ذرائع کے مطابق تل عفر سے البعاج کی طرف فرار ہونے والے عام شہریوں کی آڑ میں داعشی جنگجو بھی وہاں سے بھاگ رہے ہیں۔

عراق کی جوائنٹ فورسز کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فورسز نے موصل کے شمالی محاذ پر لڑائی کے دوران داعش کے قبضے سے کئی اہم تزویراتی قصبے چھین لیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی فوج کی بھاری نفری بھی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے مغربی موصل میں تل عفر کے مقام پر اتاری کی گئی ہے۔ العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق فورسز نے مغربی موصل میں لڑائی کے دوران داعش کے سات اہم جنگجو گرفتارکر لیے ہیں۔ حراست میں لیے گئے جنگجوؤں کا لڑائی میں کلیدی کردار رہا ہے۔

مرکزی موصل کی طرف پیش قدمی

دریں اثناء عراقی فوج کی طرف سے موصل کے مرکز کی طرف جہاں داعش نے خود کو قلعہ بند کررکھا ہے کی طرف آہستہ آہستہ پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ عراقی فوج کا بریگیڈ 16 اور اس کی معاون فورسز نے شمال کی سمت سے داعش کے مضبوط گڑھ کی طرف پیش قدمی کررہی ہیں مگر فوج کو کئی قسم کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ داعش نے شہریوں کی بڑی تعداد کو یرغمال بنا کر انہیں انسانی ڈھال بنا رکھا ہے۔ اس کے علاہ جگہ جگہ پر داعش نے اپنے خود کش بمبار پھیلا دیے ہیں۔ بارودی سرنگیں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ تاہم عراقی فوج اتحادیوں کی فضائی بمباری کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ مشرقی موصل کے بائیں ساحلی علاقے سے انسداد دہشت گردی فورسز نے متعدد اہم قصبے داعش سے چھیننے کا دعویٰ کیا ہے۔ عراقی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقی سمت سے 60 اہم قصبات میں سے نصف علاقہ داعش شے چھین لیا ہے۔

موصل کی جنوب کی سمت میں حمل العلیل کو داعش سےچھڑانے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد واپس اپنے گھروں کو لوٹنے لگی ہے۔ موصل کے ہوائی اڈے کو ملانے والے دو اہم مقامات کے 80 فی صد علاقے داعش سے آزاد کرالیے گئے ہیں۔