al-arabiyaویڈیو میں داعش کا باریش جنگجو ایک مکان سے بازو بلند کرتے ہوئے نمودار ہورہا ہے۔وہ جب اس خفیہ ٹھکانے سے باہر نکلتا ہے تو کرد فوجی اس کو قمیص اوپر اٹھانے کے لیے کہتے ہیں تاکہ یہ پتا چل سکے کہ کہیں اس نے خودکش بیلٹ تو نہیں باندھ رکھی۔11057-01-mosul-14nov16

اس شخص کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور وہ پریشان حال دکھائی دے رہا ہے۔ وہ کرد فورسز سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ اس کو گولی نہ ماریں۔پھر دسیوں فوجی اس کو اپنی گرفت میں لے کر کہیں اور منتقل کردیتے ہیں۔

رودا نیوز ایجنسی نے یہ ویڈیو جاری کی ہے اور البیش المرکہ فورسز نے موصل کے شمال میں تیرہ کلومیٹر دور واقع ایک قصبے سے اس جنگجو کو پکڑا ہے۔وہ عربی میں گفتگو کررہا ہے جس سے وہ کسی عرب ملک عراق یا شام ہی کا رہنے والا لگ رہا تھا۔

کرد فورسز بھی 17 اکتوبر سے موصل کو بازیاب کرانے کے لیے داعش کے خلاف جاری بڑی کارروائی میں شریک ہیں۔اس میں ہزاروں عراقی فوجی اور ان کی اتحادی ملیشیائیں حصہ لے رہی ہیں اور انھیں امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد حاصل ہے۔ کرد موصل شہر سے باہر کی کاروائیوں می شریک کار ہیں۔