عرب ذرائع ابلاغ نے تقریبا دو دہائیوں سے بھی قبل”Mecca” نام کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی جس کو اب بھی بہت سے اجنبی ممالک “مکہ مکرمہ” کے ترجمے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں نے مذکورہ نام کی تصحیح کے لیے کام کیا جو تلفظ کے لحاظ سے عربی زبان میں میم پر زبر کے ساتھ “مَکہ” سے قدرے مختلف ہے اور یہ “مِیکا” بولا جاتا ہے۔

انیس سو اسی کی دہائی کے اوائل میں سابق خادم حرمین شریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز نے جو اس وقت مملکت کے ولی عہد تھے، سال 1401 ہجری میں ایک فیصلہ جاری کیا جس کے تحت سعودی عرب میں تمام سرکاری اور نجی سیکٹروں کی خط و کتابت میں “مکہ مکرمہ” کے ترجمے کے لیے”Makkah” کے لفظ پر اعتماد کیا گیا اور مملکت کے ساتھ معاملات کرنے والی کمپنیوں اور اداروں کو اس نام پر اعتماد کرنے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا۔9019.02 Makkah 03Sep16

مکرمہ مکرمہ کے صحیح ترجمے کی تصدیق کے لیے”Makkah” نام برطانوی انسائیکلوپیڈیا بریٹینکا اور آکسفورڈ اطلس میں درج ہے۔ بالخصوص لندن میں 1936 میں منعقد ہونے والی جغرافیہ دانوں کی بین الاقوامی کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ دنیا بھر میں شہروں کے نام، جغرافیائی طبیعت اور ماحولیاتی مظاہر کے نام اسی طرح لکھے جائیں گے جس طرح وہاں کے مقامی لوگ بولتے ہیں۔

اس حوالے سے سعودی عرب کی کوششوں کے ضمن میں رابطہ عالم اسلامی نے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے دفاتر اور اہل کاروں کے ذریعے مکہ مکرمہ کے صحیح ترجمے کے موضوع پر توجہ دی۔ ادارے نے متعدد ممالک کو صحیح ترجمے “Makkah” پر اعتماد کرنے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔