وزیرِ اعظم نواز شریف کی نااہلی کا ریفرنس مسترد

0
8

BBC Urdu_2پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر نے وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیت سے متعلق دائر کیا گیا ریفرنس ناکافی شواہد کی بنیاد پر مسترد کر دیا ہے۔

ادھر حکمراں جماعت کے ارکانِ قومی اسمبلی کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نااہلی سے متعلق ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا گیا ہے۔9024.01 Reference 05Sep16

نواز شریف کے خلاف ریفرنس عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی طرف سے دائر کیا گیا تھا جس میں پاناما لیکس میں سامنے آنے والی آف شور کمپنیوں کی معلومات کے تناظر میں وزیرِ اعظم کو نااہل قرار دینے کی درخواست کی گئی تھی۔

نامہ نگار ارم عباسی کے مطابق 150 سے زیادہ صفحات پر مشتمل ریفرنس میں شیخ رشید نے موقف اختیار کیا تھا کہ پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد وزیر اعظم نے جھوٹ بول کر آئین کے آرٹیکل 63 کی شق 2 کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے انھیں نااہل قرار دیا جائے۔

آئین کی ان شقوں کے مطابق صرف صادق اور امین شخص ہی قومی اسمبلی کا رکن بن سکتا ہے۔پیر کو سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے یہ ریفرنس اس بنیاد پر مسترد کر دیا گیا کہ اس درخواست کے ساتھ ایسے دستاویزی شواہد موجود نہیں جن کی روشنی میں وزیرِ اعظم کو نااہل قرار دیا جا سکے۔

اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف نے پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے بچوں کے نام آنے کے بعد میاں نواز شریف کی نااہلی سے متعلق ایک درخواست سپریم کورٹ میں بھی دائر کی تھی جسے اعتراض لگا کر واپس کیا جا چکا ہے۔9024.02 Reference 05Sep16

خیال رہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر پاکستان کے الیکشن کمیشن نے حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں پر وزیرِاعظم پاکستان نواز شریف، پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ اور وفاقی وزیر خزانہ سمیت چھ افراد کو نوٹس جاری کیے ہوئے ہیں جن کی سماعت منگل کو ہوگی۔

عمران خان کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن میں

ادھر حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نااہلی سے متعلق ریفرنس بھی مزید کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا گیا ہے۔

یہ ریفرنس حکمراں جماعت کے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز اور طلال چوہدری کی طرف سے چار اگست کو دائر کیا گیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپیکر کی جانب سے اس ریفرنس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور قانون کے مطابق ایک ماہ پورا ہونے کے بعد یہ معاملہ اب خود بخود الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا ہے۔

نااہلی کے اس ریفرنس میں عمران خان کی طرف سے ٹیکس چھپانے کے لیے آف شور کمپنی بنانے کے اعتراف اور گوشواروں میں اپنے اثاثے چھپانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اس ریفرنس میں پاکستان میں اُن کی جائیداد اور اس پر بننے والا ٹیکس ادا نہ کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔