پابندیوں میں توسیع پر ایران کی مذمت

0
12

voa_2کانگریس مین  کرس کونز کہہ چکے ہیں کہ ایران پر پابندیوں کا ایکٹ صرف ان پابندیوں میں توسیع ہے جو پہلے سے ہی نافذ ہیں اس لیے یہ جوہری معاہدے کی  خلاف ورزی نہیں ہے۔

ایران کے اعلی ترین سفارت کار نے امریکی کانگریس کی جانب سے اس ہفتے کے شروع میں ایران کے خلاف پابندیوں کی توسیع پر منظور کئے جانے والے ایک بل کی سختی سے مذمت کی ہے۔

12014-01-iranus-04dec16ایرانی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف نے ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ایریب کو بتایا کہ پابندیوں میں توسیع امریکی حکومت کی باقی دنیا کے لیے غیر مستند ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

امریکی سینیٹ نے جمعرات کو ایران کے خلاف پابندیوں کی مزید دس برسوں کے لیے توسیع پر ووٹنگ کی جس کے رد عمل میں ایران کے اعلیٰ عہدے داروں نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اس جوہری معاہدے سے پھر رہا ہے جس پر دونوں ملکوں نے گزشتہ سال دستخط کیے تھے۔

ایرانی عہدے دار اس لیے بھی پریشان ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ پابندیوں میں توسیع اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو ایران اور امریکہ سمیت دوسری چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہوا تھا جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کیا تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی پابندیوں کی توسیع کی مذمت کی ۔ صدر نے مبینہ طور پر سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کو بتایا کہ جوہری معاہدہ سات ملکوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور کسی ایک ملک کو اسے کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

کانگریس مین کرس کونز کہہ چکے ہیں کہ ایران پر پابندیوں کا ایکٹ صرف ان پابندیوں میں توسیع ہے جو پہلے سے ہی نافذ ہیں اس لیے یہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے اور انہوں نے کسی دوسرے ایسےکلیدی شراکت دار کے بارے میں نہیں سنا ہے جس نے اس توسیع کی مخالفت کی ہو۔