پاکستانی انصاف کا ایک اور بھیانک رخ: جج کا معصوم ملازمہ پر تشدد’ اصل کہانی کیا ہے؟

0
125

سن تو سہی خلق خدا تجھ تو کہتی ہے غائبانہ کیا

shafaqna-irاسلام آباد کے حاضر سروس جج کی گھریلو ملازمہ پر تشدد کیس کا متوقع ڈراپ سین ہوگیا۔غریب والدین نے معاملہ اللہ کی عدالت کے سپرد کر دیا۔ جب کہ ،جج کی اہلیہ کی ضمانت بھی منظور کرلی گئی۔

بظاہر یہ کہانی بہت سادہ ہے مگر اس کا اصل رخ کچھ اور ہے جو ہمیں ایک مرتبہ پھر باور کراتا ہے کہ پاکستان میں قانون طاقتور کے ہاتھ میں‌محض ایک کھلوناہے۔

01024-01-hservant-05jan17جس بچی پر جج صاحب کی اہلیہ نے تشدد کیا اس کا نام طیبہ ہے اور عمر صرف دس سال ہے۔ اس بات کا علم نہیں کہ یہ بچی اغوا ہوئی یا گم مگر یہ ایک یتیم خانے سے ایک بااثر جج خرم علی خان کی خدمت کے لیے معمور کر دی گئی۔

اس بچی کی ستم ظریفی کہ جج صاحب کی اہلیہ میں شاید ہی انسانیت نام کی کوئی چیز تھی کیونکہ اس معصوم  بچی کو اکثر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور اس سے جبری مشقت لی جاتی۔ ایک روز اس بچی سے جھاڑو گم ہو گیا جس پر جج صاحب کی اہلیہ آپے سے باہر ہو گئیں اور کم سن بچی کا ہاتھ چولہے پر جلا دیا۔

12150-01-judge-31dec16معاملہ میڈیا پر آٰیا تو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ انور کاسی کے حکم پر بچی کو جج صاحب کی سالی کے گھر سے برآمد کر لیا گیا اور جج صاحب کی بیوی کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔  مگر یہ پاکستان ہے۔

ایک طرف بااثر جج اور دوسری طرف ایک معصوم بچی۔ تفتیشی افسر نے بچی کے بیانات میں تضاد کا ڈھونگ رچا دیا جس سے جج صاحب کی اہلیہ کی ضمانت کنفرم ہوگئ اور دوسری جانب جج صاحب کے ایک عزیز نے بچی کے والد ہونے کا دعوی کر دیا اوراس نام نہاد والد نے جج صاحب کو عام معافی لکھ دی جس پر یہ معاملہ ختم ہو گیا۔

پاکستان کے عدالتی نظام کو نہ تو اس بچی کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی توفیق ہوئی اور نہ ہی جج صاحب پر کم سن بچی کو ملازمہ رکھنے اور اس سے جبری مشقت لینے کا کیس درج ہوا اور نہ ہی یتیم خانے سے پوچھا گیا کہ اس نے ایک کم سن بچی کو جبری مشقت کے لیے ایک جج کے حوالے کیوں کیا۔

پاکستان منصفوں کا سیاہ چہرہ کوئی پہلی دفعہ بے نقاب نہیں‌ہوا بلکہ اس سے قبل بھی ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ پاکستان میں‌قانون ایک ایسی لونڈی ہے جو طاقتوروں‌کے کوٹھوں‌پر ناچتی ہے۔