Home / دھشت گردی / پاکستان کا اچھے اور برے دہشتگردوں میں امتیاز برقرار

پاکستان کا اچھے اور برے دہشتگردوں میں امتیاز برقرار

BBCافغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے خطے کے دیگر ممالک تو مدد کر رہے ہیں تاہم پاکستان اب بھی ’اچھے اور برے دہشت گردوں‘ کی تمیز روا رکھے ہوئے ہے۔

پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں نیٹو سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان سے متعلق چار ملکی امن عمل میں یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان خطرناک طور پر اچھے اور برے دہشت گردوں میں عملی طور پر تفریق کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔20.01 Taliban  10Jul

انھوں نے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں متفقہ قواعد موجود نہیں ہیں اور جن کے لیے افغانستان علاقائی اور عالمی حمایت کی خواہش رکھتا ہے کیونکہ اس کی بدولت ہم سب متفقہ سلامتی اور ہم آہنگی کے پابند ہوں گے۔سعودی عرب میں حال ہی میں ہونے والے خودکش حملے پر بات کرتے ہوئے اشرف غنی کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو اپنی تہذیب کو قبضے میں لینے والے چھوٹے گروہ کے خلاف متحد ہونا ہو گا۔

اپنے خطاب میں اشرف غنی نے افغان فوج کی تربیت میں معاونت کرنے پر بھی نیٹو افواج کا شکریہ بھی ادا کیا۔اشرف غنی نے کہا کہ قیام امن ہماری ترجیح ہے تاہم اس کے حصول کے لیے لازم ہے کہ ہم اس جنگ کو سمجھیں جو ہم پر مسلط کی گئی ہے۔’جنگ کثیر الجہتی ہے جو القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروپوں سے لے کر وسطی ایشیا تک پھیلی ہوئی ہے۔ چین اور روس سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں، پاکستانی گروہ پاکشتانی اور افغان طالبان گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ گروہ خطے کے لیے خطرہ ہیں۔انھوں نے دہشت گردی کے خلاف گذشتہ برس منظور ہونے والے مکہ اعلامیے کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ عرب ممالک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں۔اشرف غنی نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودہ تعداد برقرار رکھنے کے فیصلے پر امریکی صدر براک اوباما کا شکریہ ادا کیا۔بی بی سی پشتو سروس کے مطابق نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہمارا پیغام واضح ہے کہ افغانستان اکیلے نہیں ہے اور ہم طویل مدت کے لئے مصروف عمل ہیں۔‘

ادھر نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے وارسا میں آمد کے موقع پر برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ نیٹو’ افغان حکومت اور افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے تاکہ دہشت گردوں کو اس ملک سے دور کرنے میں مدد کر سکیں۔‘انھوں نے کہا کہ برطانوی فوجیوں کی تعیناتی اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ یورپی اتحاد سے نکلنے کے فیصلے کے باوجود برطانیہ عالمی سطح پر مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔

About admin

Check Also

کل بھوشن کی بیوی 2ماہ سے لا پتہ

پاکستان میں سزائے موت کے منتظر بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘کے ایجنٹ کلبھوشن کی بیوی جسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!