پاکستان کی جنگ بلاامتیاز کارروائی کے بغیر ختم نہیں ہو گی: امریکہ

0
58

bbc-urdu_2اوباما انتظامیہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک وہ بیرونی ملکوں پر حملہ کرنے والے گروہوں کو برداشت کرتے رہنے کی پالیسی نہیں بدلتا۔

یہ بیان امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور کے سامنے افغانستان پر ہونے والی ایک بحث کے دوران سامنے آیا۔9074-01-domore-16sep16

سوال جواب کے دوران انتظامیہ کی نمائندگي کرنے والے افغانستان پاکستان کے معاملات کے لیے امریکہ کے خصوصی سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ پاکستانی اہلکاروں کے ساتھ بات چیت میں یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ انھیں تمام شدت پسند تنظیموں کو بلاامتیاز نشانہ بنانا ہو گا۔

اولسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کی کارروائیاں انتہائی اہم ہیں اور انھیں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے میں کامیابی بھی ملی ہے، تاہم ’پاکستان کو تمام پناہ گاہیں ختم کرنا ہوں گی اور ان تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کرنی ہو گی جو پڑوسی ملکوں کو نشانہ بناتی ہیں۔‘

بحث کے دوران کچھ سینیٹروں کی رائے تھی کہ پاکستان قابل اعتماد شراکت دار نہیں ہے اور حقانی نیٹ ورک کا ساتھ دے کر افغانستان میں امریکہ کے خلاف کام کر رہا ہے۔

اس کے جواب میں اولسن کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو اس سے خطے میں استحكام قائم ہو گا اور ہمسایہ ملکوں اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا: ’لیکن اگر پاکستان نے ایسا نہ کیا تو وہ دنیا میں اکیلا رہ جائے گا۔‘

اولسن نے حقانی نیٹ ورک اور انڈیا کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی کہ پاکستان مقامی دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ دوسری تنظیموں کے ساتھ ایک نئی جنگ شروع نہیں کرنا چاہتا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں امن سیاسی حل کے ذریعے ہی قائم ہو سکتا ہے اور اس کے لیے افغانستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہونا ضروری ہے۔

گذشتہ مہینوں میں امریکی کانگریس میں پاکستان کے خلاف تلخی بڑھی ہے اور اس كا اثر ایف 16 طیاروں کی فروخت اور 30 کروڑ ڈالر کی امداد پر لگائی گئی پابندی کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے۔9074-02-domore-16sep16

پاکستان کی شکایت رہی ہے کہ وہ شدت پسندي کے خلاف جتنی بھی کارروائیاں کرے اس سے ہمیشہ مزید (’ڈو مور‘) کی توقع کی جاتی ہے۔

بدھ کو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سفیر مليحہ لودھی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دنیا کو یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان افغانستان کی جنگ لڑے گا۔