کابل: فوجی اسپتال پر حملے میں 30 افراد ہلاک

0
196

VOA_2افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بدھ کو ایک فوجی اسپتال پر مسلح افراد کے حملےمیں 30 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک خودکش بمبار نے سردار داؤد خان اسپتال کے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے بعد دیگر حملہ آور عمارت میں داخل ہوگئے۔

03057.01 Kabul 08Mar17حملہ آور میں سے کم از کم ایک نے ڈاکٹر کا بھیس بدل رکھا تھا۔ چار سو بستروں پر مشتمل یہ اسپتال جس علاقے میں ہے وہاں کئی ملکوں کے سفارتخانے بھی واقع ہیں۔

ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ “میں آپریشن تھیٹر جانے کی تیاری کر رہا تھا جہاں بہت سے مریض میرے منتظر تھے کہ میں نے گولیاں چلنے کی آواز سنی۔ مجھے لگا کہ میرے کسی ساتھی نے دروزاے پر دستک دی۔ میں نے دروازہ کھولا اور دیکھا کہ ایک خودکش بمبار ڈاکٹر کے بھیس میں کھڑا ہے۔ اس نے مجھ پر گولی چلائی لیکن میں جلدی سے سیڑھیوں کی اوٹ میں چھپ گیا۔”

Afghan Soldiers inspect the site of attack on a military hospital in Kabul, Afghanistan, Wednesday, March 8, 2017. Gunmen stormed a military hospital in Afghanistan's capital on Wednesday, killing at least four people and wounding more than 60, setting off clashes with security forces that were still underway hours later. (AP Photo/Rahmat Gul)

انھوں نے مزید بتایا کہ حملہ آور نے ایک سمت میں موجود عملے کے دیگر ارکان پر فائرنگ شروع کر دی۔سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ افغان فورسز اور انسداد دہشت گردی کے یونٹس فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق ایمبولینسز کے ذریعے متاثرہ افراد کو قریب ہی واقع وزیر اکبر خان اسپتال منتقل کیا گیا۔ خیال کیا جاتا ہے حملے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں میں اکثریت اسپتال کے عملے کی ہو سکتی ہے۔ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

شدت پسند تنظیم داعش نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔گزشتہ ہفتے کابل میں سکیورٹی فورسز کے دفاتر پر ہونے والے دو خودکش حملوں میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور دھماکوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں شریک تھے جو کہ جائے وقوع سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ہو رہی تھی۔

دونوں راہنماؤں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک مجرمانہ فعل قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اس میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

افغانستان میں نیٹو کے بین الاقوامی افواج پر مشتمل ریزولیوٹ سپورٹ مشن کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ وہ ملک کی سکیورٹی فورسز سے تعاون کے لیے ہر دم تیار ہیں۔

بیان میں کہا گیا “ایک بار پھر عسکریت پسندوں نے اسپتال پر حملہ کر کے انسانیت کی توہین کی ہے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔”