Home / سیاست / تبصرہ / کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ برادری کے دو افراد شہید

کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ برادری کے دو افراد شہید

VOAپولیس حکام کے مطابق کوئٹہ شہر سے ہزار گنجی میں فروٹ اور سبزی منڈی جانے والے شیعہ ہزارہ برادری کے دو جوان رکشہ میں جا رہے تھے کہ سر یاب روڈ ڈگر ی کالج کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو نا معلوم مسلح افراد نے رکشہ پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔133.01 Quetta  01Aug16

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں پیر کو شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی تلاش کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر کے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ شہر سے ہزار گنجی میں فروٹ اور سبزی منڈی جانے والے شیعہ ہزارہ برادری کے دو جوان رکشہ میں جا رہے تھے کہ سر یاب روڈ ڈگر ی کالج کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو نا معلوم مسلح افراد نے رکشہ پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔

جس سے ہزارہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے دونوں نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ مارے جانے والے دونوں افراد کی شناخت غلام نبی اور محمد نبی کے نام سے ہوئی ہے اور وہ شیعہ ہزارہ برادری کے اکثریتی علاقے علمدار روڈ کے رہائشی ہیں۔

اس واقعہ کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ ہدف بنا کر قتل کرنے کا واقعہ ہے اور اس میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ماضی کی نسبت کوئٹہ میں صورت حال بہتر ہوئی ہے اور اُن کے بقول شہر میں محفوظ بنانے کے لیے ’سیف سٹی‘ منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔

شیعہ ہزارہ برادری کے لوگوں کو اس سے قبل بھی متعدد بار خود کش بم حملوں کے علاوہ ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کا سامنا رہا۔ہزارہ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ایسے حملوں میں اب تک ہزارہ برادری کے لگ بھگ ایک ہزار افراد کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ شیعہ ہزارہ برادری پر ہونے والے مہلک حملوں کے بعد اُن کے دو رہائشی علاقوں علمدار اور ہزارہ ٹاﺅن کی حفاظت بڑھا دی گئی تھی اور اب ان علاقوں کی حفاظت کے لیے فرنٹیر کور کے اہلکار تعینات ہیں۔

ایک روز قبل کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ہی لیویز کے ایک اہلکار کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق لیویز اہلکار اپنی ڈیوٹی ختم کر کے گھر جا رہا تھا جب اُسے نشانہ بنایا گیا۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے لیویز اہلکار پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

—————————————————————

SamaTV

QUETTA: Two men belonging to Hazara community were shot dead as unknown armed men riding a motorcycle opened fire at a motor rickshaw on Sariab road area in Quetta on Monday.

“Unknown armed men riding a bike sprayed volley of bullets on the 133.02 Quetta  01Aug16rickshaw,” the police said, adding that as a result of firing, the two Hazara persons suffered gunshot wounds which caused their instant death. The assailants managed to escape from the scene. The police rushed to the scene and shifted the bodies to hospital

The dead were identified as Muhammad Nabi and Ghulam Nabi. Both were residents of Quetta’s Hazara Town. The law enforcement personnel have cordoned off the entire area to trace the suspects. –APP

About admin

Check Also

کل بھوشن کی بیوی 2ماہ سے لا پتہ

پاکستان میں سزائے موت کے منتظر بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘کے ایجنٹ کلبھوشن کی بیوی جسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!