al-Arabiyaیمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی باغیوں کی جانب سے جنرل کارپوریشن برائے سوشل سکیورٹی کی رقوم سے تقریبا ایک ارب ڈالر لُوٹ لینے کا انکشاف ہوا ہے۔

صنعاء میں سوشل سکیورٹی کے معاملے کی پیروی کرنے والی کمیٹی نے 300 ارب یمنی ریال (تقریبا ایک ارب ڈالر) کے غائب ہونے کی تصدیق کی ہے۔ سوشل سکیورٹی کے ادارے کی یہ رقم نجی سیکٹر میں تجارت، صنعت، خدمات، تیل کمپنیوں، ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں اور بینکوں سے متعلق تھیں۔

Computer generated 3D photo rendering.
Computer generated 3D photo rendering.

رقم کو ہتھیانے کی یہ کارروائی فروری 2015 میں حوثیوں کی “سپریم انقلابی کونسل” کی طرف سے اداروں کے امور سنبھالنے کے بعد سے لے کر نومبر 2016 میں باغیوں کی نام نہاد “ریسکیو گورنمنٹ” تشکیل دینے تک کے درمیانی عرصے میں عمل میں آئی۔

سوشل سیکورٹی کے معاملے کی پیروری کرنے والی کمیٹی کے مطابق 11093 سے زیادہ بیمہ شدہ افراد نے تین ماہ سے اپنے بقایاجات حاصل نہیں کیے ہیں جس کے نتیجے میں سوشل سکیورٹی کی رقم کے انجام کے حوالے سے شکوک میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

کمیٹی نے جمعرات کے روز صنعاء میں ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ تمام مزدور انجمنیں اور یونینز اور ملک میں نجی سیکٹر کے زیر انتظام کمپنیوں اور اداروں کے ملازمین حوثیوں کی “سپریم انقلابی کونسل” کے جاری کردہ سوشل سکیورٹی کے قانون کو مکمل طور مسترد کرتے ہیں۔

اس سے قبل یمن کی آئینی حکومت نے حوثی ملیشیاؤں پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے غیر ملکی کرنسیوں کے ذخائر سے 3 ارب ڈالر سے زیادہ لُوٹنے کے علاوہ مرکزی بینک سے 400 ارب یمنی ریال سے زیادہ نکال لیے۔ اس کے نتیجے میں نقدی کا بحران پیدا ہوا اور 12 لاکھ سرکاری ملازمین پانچ ماہ سے تنخواہیں حاصل کرنے سے محروم ہیں۔

اقتصادی رپورٹوں کے مطابق حوثی ملیشیائیں 2015 کے اوائل میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے سرکاری اداروں پر قبضے کے ذریعے اربوں یمنی ریال اور کروڑوں امریکی ڈالر لوُٹ چکے ہیں۔ اس دوران باغی ملیشیاؤں نے تیل کی سرکاری کمپنی کے انتظامی امور سنبھالے اور اس کی مصنوعات کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا۔ اسی طرح ٹیلی کمیونی کیشن کے ادارے اور کسٹم کی آمدنی بالخصوص الحدیدہ کی تجارتی بندرگاہ پر کنٹرول حاصل کیا۔

حوثیوں کی قیادت لوٹی ہوئی رقم سے کمپنیوں کے قیام اور بلند و بالا پر شکوہ عمارتوں کی تعمیر میں مصروف ہے۔

چند روز قبل سوشل میڈیا پر صنعاء کے جنوب میں حال ہی میں تعمیر کی گئی ایک بڑی عمارت کی تصاویر گردش میں آئیں جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ نام نہاد “سپریم انقلابی کونسل” کے سربراہ محمد علی الحوثی کی ہے اور اس کی تعمیر پر 70 لاکھ امریکی ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔